نئی دہلی 30 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہندوستان بھر میں احتجاج کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اِس قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا اور اِس قانون کے خلاف انسانی زنجیر بنائی گئی۔ ممبئی میں سی اے اے کیخلاف شدید احتجاج کیا گیا جس میں 20 ہزار سے زائد خواتین نے حصہ لیا۔ 26 جنوری کو یوم جمہوریہ منایا گیا اور ملک کے دستور کے تحفظ کا عہد کیا گیا۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے خاص طور پر امریکہ کے 30 شہروں میں احتجاج کیا گیا جن میں اٹلانٹا شہر بھی شامل ہے۔ اِس احتجاج میں ایک ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا اور سی این این سے نیشنل سنٹر فار سیول اینڈ ہیومن رائٹس تک مارچ نکالا۔ واشنگٹن ڈی سی میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ شکاگو میں بھی سی اے اے کیخلاف احتجاج کیا گیا جہاں انسانی زنجیر بنائی گئی۔ انڈین امریکن مسلم کونسل اور دوسروں نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ لندن میں بھی ہزاروں افراد نے یونائیٹیڈ اگینسٹ فاشزم اِن انڈیا کے بیانر تلے احتجاج کیا گیا۔ امریکہ میں مقیم ہندوستانی نژاد افراد نے اِس قانون کو مخالف مسلم قرار دیتے ہوئے اِس کی دستبرداری کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک بھر میں اِس قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے خاص طور پر دہلی کے شاہین باغ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ اِسی طرح اترپردیش کے دیگر مقامات کے علاوہ بہار اور ممبئی میں بھی خواتین کا سی اے اے کیخلاف احتجاج جاری ہے۔ملک کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کیا جارہاہے۔