سی اے اے کے خلاف احتجاج، صحافیوں کیلئے سی پی جے کے رہنمایانہ خطوط

   

احتیاط کی ہدایت ،تنہا رپورٹنگ سے گریزاور ذاتی حفاظت کا انتظام ضروری

حیدرآباد۔26فروری(سیاست نیوز) سی اے اے مخالف احتجاج: سی پی جے کے ذریعہ جاری کردہ صحافیوں کی حفاظت کے لئے رہنمایانہ اصول دسمبر 2019 میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون لائے جانے کے بعد سے ہی پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے دہلی کے کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا ہے جس میںکم از کم 14 لوگ مارے جا چکے ہیں اور 150 سے بھی زیادہ زخمی ہیں۔ نئی دہلی کے کچھ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہیں جس کے تحت کسی ایک جگہ پر چار یا اس سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہو سکتے ہیں۔اس قانون کے خلاف مہم شروع ہونے کے بعد سے ہی پولیس نے احتجاجیوں کے ساتھ مارپیٹ شروع کردی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا ہے اور ان کے خلاف ربر کی گولیوں نیز آنسوگیس کا استعمال کرنے کے علاوہ کئی موقعوں پر ان پر گولیاں بھی چلائی ہیں۔ بدلے میں احتجاجیوں کے ذریعہ ٹائر جلائے گئے ہیں۔ پٹرول بم اور پتھر پھینکے گئے ہیں اور کئی گھروں اور گاڑیوں میں آگ زنی کی گئی ہے۔کئی موقعوں پر پولس احتجاجیوں اور صحافیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ اسی طرح سے پولیس میں شامل کچھ لوگوں نے شہریت قانون کے حامیوں کو شہریت قانون کے مخالفین پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا بھی ہے۔کچھ صحافیوں کو اپنے موبائیل سے فوٹو اور ویڈیو ڈلیٹ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کی گزشتہ رپورٹس کی وجہ سے انہیں خاص طور پر نشانہ بنایا گیاہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اردو اخبار ’سیاست‘ کے رپورٹر محمد مبشر الدین خرم کے ساتھ پیش آیا جن کو فروری میں ایک احتجاج کی رپورٹنگ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس واقعے کی خبر سی پی جے نے شائع کی تھی۔ موجودہ وقت میں احتجاج اور تشدد کی رو سے حساس علاقوں میں نئی دہلی کے موج پور، چاند باغ، اشوک نگر، یمنا وہار،کردم پوری، گوتم پوری، جعفرآباد، دیال پور، بھجن پورہ، مصطفی آباد اور سیلم پور شامل ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی دوسرے ایسے شہر ہیں جہاں اس قانون کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور ان میں چنئی (تامل ناڈو)، بھوپال (مدھیہ پردیش)، اگرتلا (تری پورہ)، حیدرآباد (تلنگانہ)، گوہاٹی (آسام)، الہ آباد اور لکھنؤ (اتر پردیش)، احمد آباد(گجرات)، کولکاتا اور مرشد آباد (مغربی بنگال)، بنگلور اور منگلور (کرناٹک)، ممبئی (مہاراشٹر) پٹنہ (بہار) اور چنڈی گڑھ (پنجاب) شامل ہیں۔ مخالفشہریت قانون احتجاج کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی نیچے دی گئی باتوں کا خیال رکھیں

٭یہ بات دھیان میں رکھیں کہ آئے دن یہ احتجاج فرقہ وارانہ روپ لیتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا اس کام کے لیے اسٹاف منتخب کرتے وقت یہ بات ذہن میں ضرور رکھیں۔ کسی دوسرے مذہب کے شخص کو احتجاج کاروں کے ساتھ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس پر حملہ بھی ہوسکتا ہے۔

٭جب آپ جائے احتجاج پر موجود ہوں تو ہر وقت حالات سے پوری طرح باخبر رہیں اور ممکنہ بھگدڑ کے اندیشوں سے محتاط رہیں۔ تشدد کے خطرے سے بچنے کے لیے کسی اونچی جگہ سے رپورٹنگ کرنے کو ترجیح دیں جیسے کسی عمارت کی چھت یا بالکنیپر بھیڑ کے اردگرد رہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں وہاں سے باہر نکلنے کا راستہ ضرور معلوم کر لیں۔

٭ممکن ہو توکسی ایسے شخص کو اپنے ساتھ رکھیں جو وہاں حالات کا پتہ لگائے اور اس سے آپ کو باخبر رکھے۔ ایسا کرنا بہتر اس لییہے کیونکہ کئی مرتبہ پولیس صحافیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
٭لوگوں کی بڑی بھیڑ کے درمیان جنسی استحصال کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے صحافیوں کو اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور ان کے پاس ایسے ذرائع مہیا ہونے چاہیے جس کے ذریعے خطرے کے وقت وہ اپنی پریشانی ظاہر کر سکیں اور اس کی روشنی میں انہیں فوری مدد پہنچایا جا سکے۔ اندھیر ا ہونے کے بعد کام کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا‘ اس سے بچنا چاہیے۔ اس کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے سی پی جے کے ذریعہ تیار شدہ
solo reporting advice
ملاحظہ کریں۔

٭اپنے تمام سفر کی منصوبہ بندی پہلے سے ہی کر لیں اور ایک ہنگامی منصوبہ تیار رکھیں۔ احتجاج کاروں کے ذریعہ راستہ روکے جانے اور میٹرو بند کیے جانے کی وجہ سے آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔
٭ہندوستان میں سیٹلائٹ فون رکھنا غیر قانونی ہے۔واضح رہے کہ کئی غیر ملکی شہری سیٹلائٹ فون لانے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار ہو چکے ہیں۔

٭ہندوستان میں ڈرون استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ تو اگر آپ ڈرون استعمال کر نے جارہے ہوں لیکن اگرآپ کا ڈرون ’منی کیٹی گری‘ میں سرفہرست نہیں ہوں تو آپ اپنے پاس اپنے ڈرون کا یونیک آئیڈینٹفکیشن نمبر ضرور رکھیں۔مزید جانکاری کے لیے یہاں کلک کریں۔

٭آتشزنی کے خطرے سے محتاط رہیں ہیں خاص طور سے اس وقت جب آپ احتجاجی خیموں سے یا اس کے پاس سے رپورٹنگ کر رہے ہوں۔
٭ضروری پیپر ورک وقت پر کر پورا کر لیں۔ خیال رہے کہ آسام جیسے علاقوں میں جانے کے لیے ایک صحافی کو اضافی اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح سے ہندوستان کے کچھ دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے بھی ’پروٹیکٹڈ ایریا پرمٹ‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔
٭اگر ہندوستان کے بالائی علاقوں میں جا کر رپورٹنگ کرنی ہو تو وہاں کے نئے ماحول میں ڈھلنے کی اپنی اہلیت کا اندازہ کر لیں اور اپنے آپ کو زیادہ پریشانی میں ڈالنے سے بچیں۔اس سے متعلق مزید رہنمائی کے لیے یہاں پر کلک کریں۔

٭پولیس اور احتجاج کاروں کے ذریعے انجام دیے گئے پرتشدد واقعات کو دیکھتے ہوئے آپ اپنے ساتھ ذاتی حفاظت کے سامان بھی رکھ سکتے ہیں۔

٭ایئرپورٹ، برج اور فوجی ٹھکانوں جیسی حساس جگہوں کی تصویر یا ویڈیو نہ بنائیں۔
٭صحافیوں کو ڈیجیٹل سیکورٹی کے خطروں سے بھی باخبر رہنا چاہیے۔ اپنے احساس مٹیریل اور میسجز کا مسلسل بیک اپ لے کر انہیں ڈیلیٹ کرتے رہیں اور کہیں سفر پر جانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ کے کے ڈیجیٹل ڈیوائسز (موبائل اور لیپ ٹاپ وغیرہ) پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ ملک سے باہر جانے سے پہلے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ آپ کے تمام ڈیوائسز سے ممکنہ وائرس ہٹائیجا چکے ہیں۔
ـُٖCPJ
کے ذریعہ تیارشدہ
Digital Safety Kit
میں ایسے طریقے بتائے گئے ہیں جن کی روشنی میں آپ اپنی کو اور اپنی ٹیم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ
Safety Kit
میں ایسی بنیادی جانکاریاں موجود ہیں جنہیں پڑھ کر صحافی یہ معلوم کر سکتے ہیں جسمانی، ذہنی اور ڈیجیٹل تحفظ کے لیے کون کون سے ذرائع اور طریقے کام آ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اس میں داخلی انتشار
(civil unrest)
کی رپورٹنگ کرنے سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔ اگر آپ کو تعاون کی ضرورت ہو تو

[email protected]
کے ذریعہ آپ سی پی جے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔