سی اے اے کے خلاف قرار داد منظور کرنے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ

   

حیدرآباد ۔ 23 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : پارلیمنٹ میں سی اے اے کی مخالفت کرنے کے ریاست کی حکمراں جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس ) کے موقف کی ستائش کرتے ہوئے نیشنل الائنس آف دلت آرگنائزیشنس (NADO) کی ریاستی یونٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ریاستی سطح کے مشاورتی اجلاس میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہفتہ کو اسمبلی اجلاس طلب کرتے ہوئے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ایک قرار داد منظور کی جائے ۔ اس اجلاس میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے اثرات اور ان سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کا احاطہ کیا گیا ۔ ممبرس نے خواتین اور مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے تشدد ، عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، جمہوریت سے انحراف ، دستور کی اہمیت ، عدلیہ ، مقننہ اور عاملہ کی ذمہ داریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے بنیادی طور پر امتیاز پیدا کرنے والا قانون ہے اور یہ دستور کی روح کے مغائر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اعلان کرے کہ تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہیں ہوگا ۔ جس طرح کیرالا اور مغربی بنگال میں کیا گیا ہے ۔ این اے ڈی او کے ایک ممبر چارلس ویزلی میسا نے کہا کہ حکومت ایک جامع خاندانی سروے بڑے پیمانہ پر کروا چکی ہے اور ڈیٹا دستیاب ہے ۔ اس کے علاوہ ملک میں 2021 میں مردم شماری ہونے والی ہے پھر این پی آر کی کیا ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں مرکزی حکومت کی جانب سے کیے گئے این آر سی میں 10 لاکھ ہندو اور 5 لاکھ مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا ۔۔