نئی دہلی: کانگریس سمیت 14 اپوزیشن پارٹیوں نے سی بی آئی اور ای ڈی جیسی مرکزی جانچ ایجنسیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ اس عرضی کو آج سپریم کورٹ نے خارج کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اپوزیشن پارٹیوں کے لیے انتہائی بری خبر ہے۔سی بی آئی اور ای ڈی کے خلاف عرضی اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے گزشتہ ماہ سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھ کے ذریعہ داخل کی گئی تھی۔ اس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ گزشتہ کچھ سالوں میں سی بی آئی اور ای ڈی کے ذریعہ دائر معاملوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ قریبی معاملوں پر غور کیا جائے تو سی بی آئی اور ای ڈی کے 95 فیصد معاملے اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے خلاف تھے۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن پارٹیوں نے مستقبل کے لیے گائیڈلائنس کا مطالبہ عدالت سے کیا تھا۔عرضی پر سماعت چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی تین ججوں کی بنچ نے کی۔ اس بنچ میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جے بی پاردیوالا بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ خصوصی معاملے کی دلیلوں کے بغیر عام گائیڈلائنس مقرر کرنا ممکن نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ لیڈروں کے لیے الگ گائیڈلائنس نہیں بنا سکتے۔عدالت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ای ڈی اور سی بی آئی کے زیادہ کیس دکھانے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر صرف لیڈروں کے لیے گائیڈلائنس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔