سزا دلانے اور زیر التواء مقدمات کی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت
نئی دہلی :سپریم کورٹ نے مرکزی جانچ بیورو یعنی سی بی آئی کے طریقہ کار پر سوال کھڑے کئے ہیں۔ سی بی آئی کی لاپروائی سے سپریم کورٹ انتہائی ناراض ہے یہی وجہ ہے کہ ایک معاملے میں سی بی آئی کے ذریعہ 542 دنوں کی تاخیر کے بعد اپیل داخل کرنے پر سپریم کورٹ نے اس مرکزی ایجنسی کے کام کے طریقہ اور اس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایجنسی کے ذریعہ مقدمہ چلانے والے معاملوں میں سزا کی کم شرح کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی ڈائریکٹر کو ان معاملوں کی تعداد پیش کرنے کی ہدایت دی ہے جن میں ایجنسی ذیلی عدالتوں اور ہائی کورٹوں میں ملزمین کو قصوروار ٹھہرانے میں کامیاب رہی ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ذیلی عدالتوں اور ہائی کورٹوں میں کتنے مقدمات زیر التوا ہیں اور وہ کتنے وقت سے زیر التوا ہیں؟ عدالت نے یہ بھی پوچھا ہے کہ ڈائریکٹر قانونی کارروائی کے لیے محکمہ کو مضبوط کرنے کے لیے کیا اقدام کر رہے ہیں۔جسٹس سنجے کشن کول کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ ایجنسی کے لیے صرف معاملہ درج کرنا اور جانچ کرنا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی کرنا بھی ہے کہ کامیابی کے ساتھ الزام کو ثابت کیا جائے۔