حیدرآباد ۔ 2 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پولیس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرے جرائم کی روک تھام کرنے اور اس کی تحقیقات میں اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن ریاست میں پولیس ملازمین ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمہ کے دوران ثبوت کے طور پر کیمرہ فوٹیج داخل نہیں کررہے ہیں ۔ عدالتوں نے بھی اس سنگین کوتاہی کی جانب کئی مرتبہ توجہ دلائی ہے لیکن اس میں تبدیلی کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔ حال میں ملزمین کے بری ہونے کے چند کیسیس کے تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تحقیقاتی عہدیدار (IO) نے کس طرح اس اہم ثبوت کو نظر انداز کردیا ۔ وہ جرم کے مقام پر کیمروں کی موجودگی کے باوجود یا تو سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کئے یا پھر انہیں حاصل کرنے کے بعد بھی انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا ۔ گولکنڈہ پولیس اسٹیشن حدود میں ہیومن ٹریفکنگ کے ایک کیس میں جسے جولائی میں ختم کردیا گیا ۔ آئی او نے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کئے تھے حالانکہ اس جرم کی جگہ کیمرے نصب تھے ۔ عدالت نے ملزم کو بری کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے کیس میں کمزوریوں کے پیش نظر ملزم کے اس میں شریک ہونے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ نریڈ میٹ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی توجہ ہٹاکر جرم کرنے کے دو کیسیس میں جنہیں مئی میں ختم کردیا گیا ، اے ٹی ایم سنٹر کے جرم کے مقام سے سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں داخل نہیں کیا گیا ۔ اس پر اور دیگر تحقیقاتی کوتاہیوں پر عدالت نے ملزم کو بری کرتے وقت سخت اعتراض کیا اور انہیں ’ مہلک ‘ قرار دیا ۔ نیز چکڑ پلی پولیس اسٹیشن کے حدود میں ٹکر مار کر فرار ہونے کے کیس میں جس میں ایک لڑکی شدید زخمی ہوگئی تھی اور اس کے باپ کی موقع پر موقع ہوگئی تھی ، آئی او نے حادثہ کے مقام سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں کئے تھے جو ہائی ینڈ کیمروں کے ساتھ ایک ٹریفک جنکشن ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے خلاف پیش کیا گیا ثبوت ناقابل اعتبار پایا گیا ہے اور ملزم کو بری کردیا ۔ سیف آباد پولیس کی جانب سے تحقیقات کئے گئے قتل کے ایک کیس میں جس میں ملزم کو جون میں عمر قید کی سزا ہوئی ۔ آئی اوز نے ایک ہوٹل کے سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل ایک ہارڈ ڈسک حاصل کئے تھے لیکن اے ٹی ایم کیوسکس سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے جہاں ملزم نے مقتول کے بینک اکاونٹ سے رقم نکالی تھی ۔۔