سی ٹی اِسکیان کی جھوٹی رپورٹس کے ذریعہ عوام کو لوٹنے کا انکشاف

   

کورونا کی جانچ کیلئے سی ٹی اسکیان ضروری نہیں، مقررہ ٹسٹوں کے بجائے عوام کو گمراہ کرنے کا نیا طریقہ ایجاد

حیدرآباد۔ کورونا وائرس کے نام پر خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی لوٹ کھسوٹ کے واقعات میں حکومت کی مداخلت کے باوجود کوئی کمی نہیں ہوئی تو دوسری طرف فرضی اور جھوٹی رپورٹس کی بنیاد پر عوام سے بھاری رقومات وصول کرنے کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی کارپوریٹ ہاسپٹلس کورونا سے خوفزدہ افراد کا سی ٹی اسکیان ٹسٹ کرنے پر اصرار کررہے ہیں جبکہ کورونا کی جانچ کیلئے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کئی ہزار روپئے کے اس ٹسٹ کی جھوٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے عوام کو لوٹا جارہا ہے۔ جھوٹے سی ٹی اسکیان خانگی ہاسپٹلس کیلئے بھاری آمدنی کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ حکومت نے زائد بلز کی وصولی کے خلاف بعض ہاسپٹلس کو کورونا کے علاج کی اجازت سے محروم کردیا۔ حکومت رعایتی شرحوں پر علاج کیلئے مجبور کررہی ہے تو دوسری طرف ٹسٹوں بالخصوص سی ٹی اسکیان کے نام پر ہزاروں روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس کے بیشتر ڈاکٹرس کورونا کی جانچ کیلئے ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے تجویز کردہ ٹسٹوں کے علاوہ سی ٹی اسکیان کی صلاح دے رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات منظر عام پر آنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ڈاکٹرس سی ٹی اسکیان کی صلاح کیوں دے رہے ہیں۔ دراصل کارپوریٹ اور خانگی ہاسپٹلس کورونا کے نام پر بیجا فائدہ اٹھانے کی ٹھان چکے ہیں۔ خانگی ہاسپٹلس کیلئے کورونا اور اس کا علاج کاروبار کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔ علاج کیلئے مریضوں سے لاکھوں روپئے کی وصولی کوئی نئی بات نہیں رہی۔ اس کے علاوہ سی ٹی اسکیان کی ہیرا پھیری پر مبنی رپورٹس کے ذریعہ عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹرس کے مطابق کورونا کا پتہ چلانے کیلئے سی ٹی اسکیان ضروری نہیں ہے لیکن کئی کارپوریٹ ہاسپٹلس اس ٹسٹ کو لازمی قراردیتے ہوئے مریضوں کو ہاسپٹل میں شریک ہونے کیلئے مجبور کررہے ہیں۔ کورونا کا پتہ چلانے کیلئےRT-PCR ٹسٹ کے علاوہ ریاپیڈ انٹیجن ٹسٹ کافی ہے۔ اضلاع میں یہ دونوں ٹسٹ کرتے ہوئے مریضوں کا پتہ چلایا جارہا ہے۔ 23 خانگی ہاسپٹلس اور لیباریٹری میں آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کی سہولت موجود ہے۔ ریاست میں 100 سے زائد ہاسپٹلس کورونا کا علاج کررہے ہیں۔ سرکاری سطح پر1100 مراکز میں آر ٹی۔ پی سی آر اور ریاپیڈ انٹیجن ٹسٹ کئے جارہے ہیں۔ ایسے ہاسپٹلس کی کثیر تعداد موجود ہے جنہیں کورونا کے ٹسٹ اور علاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایسے ہاسپٹلس میں کورونا کی جانچ کیلئے سی ٹی اسکیان تجویز کیا جارہا ہے۔ ہر مریض سے اسکیان کیلئے پانچ تا چھ ہزار روپئے وصول کئے جاتے ہیں اور بل میں پی پی ای کٹ کا خرچ بھی شامل کیا جاتا ہے۔ آر ٹی ۔ پی سی آر ٹسٹ کا نتیجہ 24 گھنٹے میں آتا ہے جبکہ سی ٹی اسکیان کا نتیجہ صرف چند منٹوں میں حاصل ہوسکتا ہے۔ ایک مشہور پلمنالوجسٹ نے بتایا کہ ایسے افراد جن میں کورونا کی کوئی علامات نہیں ہیں یا جن میں معمولی علامات ہیں ان کیلئے سی ٹی اسکیان سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ 70 تا80 فیصد مریضوں میں معمولی علامات پائی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آر ٹی ۔ پی سی آر یا سی ٹی اسکیان کیا جائے مریض میں معمولی علامات ہیں تو اس کا علاج نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ سی ٹی اسکیان کرنا ایسے مریضوں کیلئے صرف مالی بوجھ میں اضافہ کرنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض معاملات میں کورونا کی کوئی علامات نہ ہونے کے باوجود دواخانوں نے سی ٹی اسکیان میں تبدیلی کرتے ہوئے جھوٹی رپورٹ حوالے کی ہے۔اگرچہ پھیپھڑوں میں کوئی انفیکشن نہ بھی ہو تب بھی کورونا وائرس کے مریض کی سی ٹی اسکیان فلم پر نام تبدیل کیا جارہا ہے۔