سی پی آئی قائد نے تروملا مندر اور شراب کی دکان کا معائنہ کیا

   

عبادت گاہیں بند، شراب خانے کھلے، ڈاکٹر نارائنا کا ریمارک
حیدرآباد ۔13۔ مئی(سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا نے آج حمایت نگر میں واقع تروملا تروپتی دیواستھانم مندر اور قریب میںواقع ایک شراب کی دکان کا معائنہ کیا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے عبادت گاہوں تو بند کردیا ہے جبکہ شراب کی دکانات کو کھول دیا گیا ۔ انہوں نے مقامی افراد سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔ مقامی افراد نے حکومت کے فیصلہ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ عبادت گاہوں کو بند رکھتے ہوئے حکومت نے غیر دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ شراب کی دکانات کی اجازت دے کر برائیوں اور اور جرائم میں اضافہ کی راہ ہموار کی ہے ۔ ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران سماجی دوری کے نام پر حکومت نے مساجد ، منادر ، چرچس اور گردواروں کو بند کردیا ہے لیکن سرکاری خزانہ میں آمدنی میں اضافہ کے لئے شراب کی فروخت کی اجازت دے دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانات پر سماجی دوری کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران شراب کی فروخت کی اجازت کے ذریعہ حکومت نے غریب خاندانوں کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔ شراب کے عادی افراد اپنے خاندان کی فکر کرنے کے بجائے شراب کی خریدی پر رقم خرچ کر رہے ہیں ۔ نارائنا نے کہا کہ مندروں کی کشادگی کی صورت میں حکومت کو بھاری آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔ عبادتگاہوں میں سماجی دوری کو برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔ تروپتی ، یادادری ، سری سیلم ، سری کلا ہستی اور وجئے واڑہ کی مندروں سے بھاری آمدنی حاصل ہوسکتی ہے جہاں دنیا بھر سے یاتری شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری خسارہ کو کم کرنے کیلئے شراب کی فروخت کی اجازت دینا افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانات کی اجازت کے علاوہ غیر مقامی ورکرس کی منتقلی میں ناکامی کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں جب سے شراب کی فروخت میں اضافہ ہوا ، کورونا وائرس کے کیسس میں بھی اضافہ ہوچکا ہے ۔