سی پی آئی قومی قائدین کی صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات

   

منی پور کے دورے کی رپورٹ پیش، چیف منسٹر کی برطرفی اور امن کی بحالی کا مطالبہ
حیدرآباد: 29 اگست (سیاست نیوز) سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ کی قیادت میں قومی قائدین کے وفد نے آج نئی دہلی میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کی اور تشدد سے متاثرہ منی پور کی صورتحال سے واقف کرایا۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹریز بنوئے وشوم ایم پی، ڈاکٹر کے نارائنا اور راما کرشنا پانڈا کے ہمراہ ڈی راجہ نے 21 تا 24 اگست منی پور کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال سے آگہی حاصل کی۔ صدر جمہوریہ کو پیش کردہ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے صورتحال ابتر ہے اور ریاستی نظم و نسق امن و ضبط کی برقراری میں ناکام ہوچکا ہے۔ منی پور میں مختلف قبائیلی گروپ سے سی پی آئی قائدین نے ملاقات کی اور قبائل کے درمیان کشیدگی کی وجوہات سے واقفیت حاصل کی۔ صدر جمہوریہ کو بتایا گیا کہ تشدد میں 180 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 4800 مکانات کو آگ لگادی گئی۔ مختلف مذاہب کی 733 عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ 55 ہزار افراد بشمول خواتین اور بچے بے گھر ہوچکے ہیں۔ سی پی آئی قائدین نے منی پور کی صورتحال پر وزیراعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین جہد کاروں اور صحافیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں اور فرضی مقدمات درج کئے گئے۔ سی پی آئی وفد نے منی پور کے گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے امن اور بھائی چارے کی بحالی کی اپیل کی تھی۔ صدر جمہوریہ کو بتایا گیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت تشدد پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے اور عوام کا اعتماد حکومت پر سے اٹھ چکا ہے۔ سی پی آئی قائدین نے منی پور اسمبلی اجلاس میں تمام قبائیلی گروپس کی نمائندگی کرنے والے ارکان کی موجودگی پر زور دیا۔ انہوں نے چیف منسٹر بیرین سنگھ کی فوری برخاستگی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ چیف منسٹر پر عوام کو اعتماد نہیں ہے۔ سی پی آئی قائدین نے قبائیلی گروپس اور سیول سوسائٹی کے درمیان مذاکرات کے ذریعہ کشیدگی میں کمی کا مشورہ دیا۔ انہوں نے متاثرین کے لیے خصوصی امدادی پیکیج اور بے گھر افراد کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔ تعلیمی اداروں کی کشادگی کے ذریعہ طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے سیاسی قائدین، جہد کاروں، دانشوروں اور صحافیوں پر پر عائد کردہ مقدمات سے دستبرداری کا مطجالبہ کیا۔ سی پی آئی قائدین نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں فوری مداخلت کریں تاکہ منی پور میں امن بحال ہو۔