شراب کی دوکانوں کے خلاف احتجاج پر مقدمات کی شکایت، قائدین کی فوری رہائی کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 7 نومبر (سیاست نیوز) سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی کی قیادت میں قائدین کے ایک وفد نے آج ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی سے ملاقات کی اور پارسی گٹہ علاقہ میں شراب کی دوکانوں کے خلاف احتجاج کرنے پر سی پی آئی اور دیگر تنظیموں کے قائدین کی گرفتاری کی مذمت کی۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس کو پیش کردہ یادداشت میں بتایا گیا ہے کہ پارسی گٹہ علاقہ میں 100 میٹر کے حدود میں دو وائن شاپ اور دو بار م وجود ہیں جس کے سبب مقامی افراد کو دشواریوں کا سامنا ہے، ٹریفک کے آمد و رفت میں خلل اور خواتین کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ مقامی افراد نے شراب کی دوکانوں کے خلاف احتجاج منظم کیا اور مقامی افراد کی دعوت پر سی پی آئی کے ریاستی سکریٹریٹ کے رکن ڈاکٹر ڈی سدھاکر، سی پی آئی قائد راکیش سنگھ، اوشا رانی، تلنگانہ جنا سمیتی کے قائد نرسیا، سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکریسی کے قائد ارونا، پدما، ایم آر ایس پی قائد سنیتا اور پدما کے خلاف دفعات 143, 135, 341, 385 اور 427 کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ صبح 4 بجے سے رات دیر گئے دو بجے تک کھلے عام شراب کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کاروبار سے ٹریفک میں خلل پڑرہا ہے اور خواتین کا تحفظ خطرے میں ہے۔ پولیس سے نمائندگی کے باوجود اس سلسلہ میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ مقامی افراد اور خواتین کی نمائندگی پر احتجاج منظم کیا گیا۔ پولیس نے احتجاجیوں کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس سے گرفتار شدگان کی فوری رہائی اور مقدمات سے دستبرداری کی اپیل کی گئی۔ قائدین نے کہا کہ ایک ہی مقام پر شراب کی دو دکانوں کی اجازت کے سلسلہ میں کارروائی کی جانی چائے۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی تجارت کی حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس نے اس مسئلہ پر ہمدردانہ غور کا تیقن دیا۔