سی پی آئی کی تائید کیلئے کانگریس قائدین کی چاڈا وینکٹ ریڈی سے ملاقات

   

قومی و ریاستی قائدین سے مشاورت کے بعد فیصلہ، کانگریس پارٹی پرامید
حیدرآباد۔ 30 ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس قائدین کے ایک وفد نے آج سی پی آئی کے ہیڈکوارٹر مخدوم بھون پہنچ کر ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور دیگر قائدین سے ملاقات کی۔ سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا وشویشور ریڈی آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدرنشین ایم کودنڈا ریڈی پردیش کانگریس کے خازن جی نارائن ریڈی اور سابق وزیر پرساد کمار نے سی پی آئی قائدین سے حضورنگر کے ضمنی چنائو میں کانگریس امیدوار پدماوتی ریڈی کی تائید کی اپیل کی۔ دونوں پارٹیوں کے قائدین نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ کانگریس نے کہا کہ مخالف حکومت ووٹ کی تقسیم کو روکتے ہوئے کانگریس کی کامیابی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ چاڈا وینکٹ ریڈی نے اس مسئلہ پر پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلے کا اعلان کرنے کا تیقن دیا۔ اس موقع پر چاڈا وینکٹ ریڈی نے کہا کہ حضورنگر میں تائید کے لیے مختلف جماعتیں رجوع ہورہی ہیں۔ لہٰذا سی پی آئی نے مقابلے سے گریز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران سی پی آئی نے ٹی آر ایس کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دولت کا بے دریغ استعمال عام ہوچکا ہے لہٰذا سی پی آئی نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے متحدہ امیدوار کی کوشش کی گئی لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ صرف کمیونسٹ پارٹیاں ملک میں بی جے پی کا مقابلہ کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قومی اور ریاستی قائدین سے مشاورت کے بعد تائید کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کے کیشور رائو اور نامہ ناگیشور رائو نے کل سی پی آئی قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے حضورنگر میں تائید کی اپیل کی تھی۔ وینکٹ ریڈی نے بتایا کہ 2014 اور 2018ء میں سی پی آئی نے انتخابی مفاہمت کے ساتھ مقابلہ کیا تھا۔ 2018ء میں مہاکوٹمی میں سی پی آئی شامل تھی بعد میں یہ اتحاد باقی نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ قومی قائدین سی پی آئی کی ریاستی ورکٹ کمیٹی اور حضور نگر کے انچارج قائدین کے فیصلے کے بعد ہی پارٹی اپنے فیصلے کا اعلان کرے گی۔ سی پی آئی اصولوں پر مبنی پارٹی ہے اور عوامی مسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ ٹی آر ایس اور کانگریس کے علاوہ سی پی ایم اور اینٹی پارٹی کے قائدین نے بھی تائید کی اپیل کی ہے۔ ایم کودنڈا ریڈی نے کہا کہ سی پی آئی اور کانگریس میں اصولوں میں یکسانیت ہے۔ اہم مسائل پر دونوں پارٹیوں نے مل کر جدوجہد کی۔ 2018ء میں مہاکوٹمی کے باوجود انتخابی حکمت عملی میں بعض خامیاں پائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حضورنگر کا مقابلہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ٹی آر ایس کی مخالف عوام پالیسیوں کے سبب سی پی آئی نے تائید کے سلسلہ میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔