18 اکتوبر کو بند کی تائید، سی پی ایم کے ریاستی صدر جان ویسلی کا اعلان
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) سی پی ایم تلنگانہ پارٹی نے بی سی طبقات کے 42 فیصد تحفظات کو منظوری نہ دینے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سلسلہ میں 17 اکتوبر کو چلو راج بھون پروگرام منظم کرنے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ سی پی ایم کے اسٹیٹ سکریٹری جان ویسلی آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت مخالف بی سی طبقات کے خلاف کام کر رہی ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے اسمبلی میں بلز منظور کر کے مرکز کو روانہ کرنے کے باوجود مرکزی حکومت اس کی منظوری میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے بی سی طبقات کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔ جان ویسلی نے بی سی تحفظات کو دستور کے نویں شیڈول میں شامل کرنے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں 17 اکتوبر کو چلو راج بھون پروگرام منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کی انہوں نے سی پی ایم کے کارکنوں اور بی سی تنظیموں سے اپیل کی۔ جان ویسلی نے کہا کہ اسمبلی میں پیش کئے گئے بی سی تحفظات بل کی بی جے پی نے تائید کی ہے، مگر مرکزی حکومت اس کو منظوری دینے سے انکار کر رہی ہے ۔ تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل اس مسئلہ پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے قائدین نے وزیراعظم سے نمائندگی کرنے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ دوسری طرف ریاست میں جھوٹی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بی سی طبقات سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے تلنگانہ کے بی جے پی قائدین کو مرکز پر دباؤ بنانے کا مطالبہ کیا۔ جان ویسلی نے کہا کہ تلنگانہ کی حکومت نے اسمبلی میں متفقہ طور پر بل کو منظور کرتے ہوئے گورنر اور صدر جمہوریہ کو روانہ کیا لیکن مرکزی حکومت اس کو منظوری نہ دیتے ہوئے بی سی طبقات کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت کی ٹال مٹول پالیسی کی وجہ سے مقامی اداروں کے انتخابات بھی ملتوی ہوگئے ہیں۔ تلنگانہ سی پی ایم پارٹی بی سی تنظیموں کی جانب سے 18 اکتوبر کو منظم کئے جانے والے بند کی مکمل تائید و حمایت کرے گی۔2