س2015 سے پہلے سے ہندوستان میں رہنے والوں کو شہریت ملے گی

   

نئی دہلی ۔ 10 ۔ دسمبر : ( پی ٹی آئی ) : حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیر کو پیش شہریت ( ترمیمی ) بل 2019 میں 2015 سے پہلے سے غیر قانونی طور پر ملک میں رہنے والے پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو ، بودھ ، جین ، سکھ ، پارسی اور عیسائی طبقوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی تجویز کی گئی ہے ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا ۔ اس کے مقاصد اور وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ بل کے ذریعہ شہریت ایکٹ کی فہرست تین میں ترمیم کر کے ان تینوں ملکوں کے مندرجہ بالا چھ طبقوں کے لوگوں کے لیے مستقل شہریت کی درخواست کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے ۔ پہلے کم از کم 11 سال ملک میں رہنے کے بعد انہیں شہریت کے لیے درخواست کا حق تھا ۔ اب اس طئے مدت کو گھٹا کر پانچ سال کیا جارہا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2014 تک بغیر قانونی دستاویزوں کے ان تینوں ملکوں سے ہندوستان میں داخل ہونے والے یا اس مدت سے پہلے قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے اور دستاویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طور پر یہیں رہنے والے چھ طبقوں کے لوگ شہریت کی درخواست دینے کے اہل ہوں گے ۔ ساتھ ہی یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ ان کی نقل مکانی یا ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کے سلسلے میں ان پر پہلے سے چل رہی کوئی بھی قانونی کارروائی مستقل شہریت کے لیے ان کی اہلیت کو متاثر نہیں کرے گی اور شہریت کی درخواست پر غور کرنے والے افسران معاملوں پر توجہ دئیے بغیر درخواست پر غور کریں گے ۔اس بل کے ذریعہ ، اوور سیز سٹیزن آف انڈیا ( او سی آئی ) کارڈ ہولڈروں کے ذریعہ قانون کی شرطوں یا کسی دیگر ہندوستانی ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ان کا کارڈ منسوخ کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کو مل جائے گا ۔ ساتھ ہی کارڈ منسوخ کرنے سے پہلے کارڈ ہولڈر کو اس کی بات رکھنے کا موقع دینے کی بھی تجویز بل میں کی گئی ہے ۔ بل کے مقاصد اور وجوہات کے مطابق ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان میں قومی مذہب ہے جسے وہاں کے آئین کے ذریعہ قانونی حیثیت حاصل ہے ۔ ان ملکوں میں ہندو ، بودھ ، جین ، سکھ پارسی اور عیسائی مذہب کے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے ۔ ان میں سے کئی لوگوں نے ہندوستان آکر پناہ لی ہے اور لمبے وقت سے غیر قانونی طور پر یہیں رہ رہے ہیں اور انہیں غیر قانونی غیر مقیم مانا جاتا ہے ۔ اب انہیں ہندوستانی شہریت کے اہل بنانے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے ۔۔