س25 سال بعد قدرت کا انتقام معصوم نوجوان کو جلاکر دادوتحسین پانے والے خود بھی خاکستر

   

Ferty9 Clinic

مہلوک رئیل اسٹیٹ تاجر کے قاتلین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ ، ارتھی جلوس میں احتجاج

میدک :۔ میدک ٹاؤن کے رئیل اسٹیٹ تاجر مسٹر دھرماکر کٹکے سرینواس کی منگل پرتی پر کار کے ساتھ جلائے جانے کے بعد کچھ بچی ہوئی ہڈیوں اور راکھ کو میدک لایا گیا اس کے آبائی مکان واقع بادا امام گلی سے آخری رسومات کے سفر کا آغاز ہوا ۔ سرینواس کے رشتہ دار دوست احباب کی بڑی تعداد ارتھی جلوس میں شریک تھی جو سرینواس امر ہے کے نعرے لگارہے تھے ۔ ارتھی جلوس جو ہی رام داس ایکس وے پہونچا جہاں نصف گھنٹے تک خاطیوں کو گرفتار اور انہیں کیفرکردار تک پہونچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے راستہ روکو پروگرام منظم کیا گیا ۔ برہم دوست احباب مقامی ڈاکٹر ایچ چندرشیکھر ( انورادھا نرسنگ ہوم ) اعظم پورہ کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ڈاکٹر بھی شامل ہے ۔ بعدازاں آخری رسومات ادا کی گئی ۔ پولیس کی مداخلت پر ارتھی جلوس آگے بڑھا۔ مہلوک سرینواس واضح رہے کہ 1995 ڈسمبر میں میدک میں ایک معصوم نوجوان گونگے قصاب کو ڈیزل چھڑک کر ہلاک کر ڈالا تھا ۔ سرینواس کا تعلق وشواہندو پریشد اور بجرنگ دل سے تھا ۔ 1995 میں جب میدک میں یہ واقع پیش آیا تھا فیض آباد اُترپردیش کے اس وقت کے رکن لوک سبھا مسٹر ونئے کٹیار خاص کر میدک آکر دھرماکر سرینواس سے ملاقات کی اور اس کی ایسی حرکت پر خوب داد بھی دیا تھا علاوہ ازیں مسٹردھرماکر نے بائبل بھی جلایا تھا اس وقت دھرماکر کی فرقہ پرستی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہاپسندوں نے بھی دو بار اس پر فائر کئے تھے لیکن وہ بچ گیا تھا ۔ دھرماکر سرینواس کے پسماندگان میں شریک حیات دو لڑکیاں اور ایک لڑکا کے علاوہ ضعیف ماں بھی ہے ۔