نئی دہلی12 مئی (سیاست ڈاٹ کام ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راونڈر عرفان پٹھان نے شکوہ کیا ہے کہ ملک میں کرکٹ ذمہ داران نے انہیں 30 سال کی عمر میں بوڑھا بنا دیا۔ عرفان پٹھان ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں، جن کا کیریئر شاندار کارکردگی کے باوجود جلد ختم ہوگیا۔2003 میں ہندوستان کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کرنے والے عرفان نے سریش رینا کے ساتھ انسٹاگرام لائیو پر یہ بات کہی۔دراصل عرفان نے رینا کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان تین ناٹ آوٹ فاتح شراکت ہوئیں، اس بات پر رینا نے ان سے کہا کہ ان کے سری لنکا کے خلاف 2012 میں کھیلی گئی اننگز آج بھی یاد ہے۔جہاں انہوں نے تنہا ہندوستان کو جیت دلائی۔رینا کی بات سن کر عرفان نے کہا کہ وہ میچ ان کے کیریئر کا آخری ون ڈے ثابت ہوا۔عرفان نے کہا کہ آج کے وقت میں اگر کوئی ایسا کھیلے تو وہ سال بھر کے لئے ٹیم سے باہر نہیں ہو گا۔عرفان پٹھان نے کہا کہ ہمارے ملک اور آسٹریلیا، انگلینڈ کی سوچ میں فرق ہے۔مائیکل ہسی نے 29- 30 کی عمر میں آغاز کیا تھا اور جب وہ سبکدوش ہوئے، تب وہ عظیم کرکٹرز کی فہرست میں شمار تھے۔مگر ہندوستان میں 30 کی عمر میں کوئی آغازکے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا۔یہاں بوڑھا بتانے لگتے ہیں۔عرفان نے کہا کہ انہیں 30 سال کی عمر میں بوڑھا بنا دیا گیا۔عرفان نے کہا کہ ویسے تو 30 کی عمر میں بوڑھا نہیں ماننا چاہیے، مگر پھر بھی ایسی سوچ ہے تو جتنے بھی 30 کے آس پاس والے کھلاڑی ہیں جو بورڈ یا اسوسی ایشن کے ریڈار پر نہیں ہیں، ان کی لیگز میں کھیلنے کا موقع دینا چاہئے۔اس دوران رینا نے کہا کہ بی سی سی آئی کو آئی سی سی یا غیر ملکی لیگ کی فرنچائز سے بات کرتے ہوئے ہمیں دو مختلف غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کی اجازت دینی چاہئے۔کم سے کم ہمیں دو غیر ملکی لیگ میں کھیلنے کی اجازت ہونی چاہئے۔اس سے وہاں اچھی کارکردگی کرتے ہیں تو ٹیم میں واپسی کر سکتے ہیں۔
