س58 سال بعد حیدرآباد میں پھر تاریخ دہرائی جائے گی

   

شہر میں تباہ کن سیلاب کے بعد خاتون میئر کاانتخاب متوقع

حیدرآباد: اس مرتبہ منعقد شدنی جی ایچ ایم سی انتخابات میں ایسا معلوم ہوتا ہیکہ 58 سال بعد پھر وہی تاریخ دھرائی جارہی ہے۔ حیدرآباد کی پہلی خاتون میئر رانی کمودنی دیوی اس وقت میئر کے عہدہ پر فائز تھیں جب 18 ستمبر 1962ء کو شدید بارش کی وجہ تالابوں کے ٹوٹ جانے اور موسیٰ ندی میں سیلاب اور اس کے بہہ کر باہر نکلنے کے بعد حیدرآباد میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جس سے شہر بہت متاثر ہوا تھا۔ اس سیلاب میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے تھے انہیں سرکاری شیلٹرس میں ٹہرایا گیا تھا۔ شہر کے کئی حصوں میں بہت تباہی ہوئی تھی جس کے لئے بڑے پیمانے پر دوبارہ ترقی اور ای ڈیزائن پروگرام کی ضرورت تھی۔ رانی کمودنی نے، جنہیں بحیثیت ایک کارپوریٹر صرف دو سال کا تجربہ تھا، ایک روڈ میاپ تیار کیا تھا جو نہ صرف حیدرآباد کو بحال کرنے کیلئے تھا بلکہ مستقبل میں شہر کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے بھی تھا۔ چھ دہوں بعد، اب یکم ؍ ڈسمبر کو منعقد ہونے والے جی ایچ ایم سی انتخابات کے بعد ایک خاتون کو شہر کی میئر منتخب کیا جانا متوقع ہے۔ 1962ء کی طرح خاتون میئر کا انتخاب اب شہر میں آئے تباہ کن سیلاب کے بعد ہوگا۔ 1962ء میں سیلاب کا صرف ایک ایپی سوڈ تھا لیکن اکٹوبر 2020ء میں شہر میں 15 دن کے اندر سیلاب کے دو ایپی سوڈ ہوئے۔ مانسون 2020ء کی بارش سے، 1962ء کی طرح حیدرآباد میں بہت تباہی اور نقصانات ہوئے، جس سے معمول کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی۔ شہر کے ماہرین تاریخ اور ہیرٹیج جہدکار اب کافی دلچسپی سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا نئی خاتون میئر، جن کا آئندہ ماہ کے اوائل میں انتخاب عمل میں آئے گا، سیلاب سے بچاؤ اور شہر کو اس سے محفوظ رکھنے کیلئے کوئی ماسٹر پلان بنانے میں کامیاب ہوپائیں گی جیسا کہ کمودنی نے دہوں پہلے کیا تھا۔ پی انورادھا ریڈی، کنوینر انٹیک حیدرآباد نے کہا کہ ’’حیدرآباد کو بصیرت کے حامل میئرس کی ضرورت ہے، 1970ء تک ہر وقت جب حیدرآباد میں تباہ کن سیلاب آیا تو حکمرانوں نے اس سے بہترین حل کے ساتھ نمٹا۔ اس کا آغاز نظام VI میر محبوب علی خان کے دور میں 1978ء میں موسیٰ ندی میں آئی طغیانی کے بعد سے ہوا لیکن 1970ء کے سیلاب کے بعد حیدرآباد کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے کوئی بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کمودنی ایک بہادر اور جرأتمند خاتون تھیں، جنہوں نے سیاسی دباؤ کو قبول کئے بغیر آزادانہ فیصلے کئے۔ غریبوں کیلئے ایک ہمہ منزلہ عمارت کیلئے اراضی حوالہ کرنے کے معاملہ میں کمودنی نے نظام ٹرسٹ آئی تھیں۔ انہوں نے میونسپل کارپوریشن آف حیدرآباد ایم سی ایچ کیلئے بھی جگہ حاصل کی تھی جہاں اب موجودہ جی ایچ ایم سی بلڈنگ ہے۔ انہوں نے نوبت پہاڑ سے غیرقانونی قبضوں کو برخاست کیا تھا اور سیلاب سے بچاؤ کیلئے ایک پبلک گارڈن بنایا تھا۔ ان کی سوانح عمری، رانی کمودنی نے 1962یء کے سیلاب کا تذکرہ کیا اور کس طرح پورا شہر سیلاب کی زد میں آ گیا تھا۔