پریاگ راج: امیش پال نے مبینہ طور پر عتیق احمد کی اہلیہ شائستہ پروین کے حوالے سے یہ ایک ناگوار تبصرہ کیا تھا جس نے مافیا سیاست دان عتیق احمد کو اس حد تک مشتعل کیا کہ اس نے پال کے قتل کو یقینی بنایا۔ احمد کے وکیل خان حنیف نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا ہے کہ عتیق کا اومیش پال کے وکیل سے فون پر جھگڑا ہوا تھا اور ان کے جھگڑے کی وجہ سے 24 فروری کو پال کو قتل کردیا گیا تھا۔ عتیق کے غیر قانونی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں امیش کا دخل تھا۔ پولیس نے 3 مئی کو خان سے عدالت کی طرف سے منظور کیے گئے 12 گھنٹے کے حراستی ریمانڈ کے دوران پوچھ گچھ کی اور اس دوران وکیل نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ عتیق نے اپنے ساتھی گڈو مسلم کو امیش پال سے ملنے کے لیے بھیجا تھا۔ اس ملاقات کے دوران گڈو نے عتیق کو سابرمتی جیل میں بلایا اور پھر فون امیش کے حوالے کیا اور اس بات چیت میں عتیق نے امیش کو اپنے غیر قانونی جائیداد کے کاروبار سے دور رہنے کو کہا۔ اس نے امیش سے اپنے خلاف اپنا مقدمہ واپس لینے کو بھی کہا۔ امیش بی ایس پی ایم ایل اے راجو پال قتل کیس میں چشم دید گواہ تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ عتیق نے امیش کو دھمکیاں دیں لیکن معاملات اس وقت بگڑگئے جب امیش نے مبینہ طور پر عتیق کو سخت جواب دیا جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ عتیق کی بیوی شائستہ نے بھی امیش کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس نے اس کی بھی توہین کی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ عتیق نے امیش کے ساتھ جھگڑے کے بعد اپنی توہین محسوس کی اور اشرف کو حکم دیا کہ وہ امیش پال کو ختم کر دیں۔ عتیق کی پہل پر اس کے بیٹے اسد نے 11 فروری کو گڈو مسلم، غلام، وجے چودھری، ارمان اور دیگر کے ساتھ بریلی جیل میں اشرف سے ملاقات کی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہیں پر امیش کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پریاگ راج واپس آنے کے بعد 21 فروری کو حملہ آور مبینہ طور پر امیش پال کے گھر کے قریب جمع ہوئے تھے لیکن پولیس جیپ کے آنے کی وجہ سے نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ تاہم 24 فروری کو اسے ختم کرنے کے منصوبے پر عمل کیا گیا۔ پولیس کو عتیق کے وکیل خان صولت سے پوچھ گچھ کے بعد برآمد ہونے والے آئی فون کی چیٹ ہسٹری کو اسکین کرتے ہوئے کئی کروڑکی ترسیل اور حصول کا ریکارڈ ملا ہے۔
