شادنگراسمبلی حلقہ فیوچر سٹی کمشنریٹ کے دائرہ میں شامل

   

Ferty9 Clinic

عوام کو بہتر خدمات کی فراہمی اہم مقصد۔ رکن اسمبلی شادنگر

شادنگر ۔31 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ ریاستی حکومت نے پولیس کمشنریٹس کی از سرِ نو حد بندی کے تحت ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے شادنگر کو نئے قائم کردہ فیوچر سٹی کمشنریٹ کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ گزٹ کے مطابق شادنگر اور آمنگل کو ملا کر ایک ڈی سی پی زون تشکیل دیا گیا ہے۔ اس میں شادنگر کو ڈی سی پی زون ہیڈکوارٹر بنایا جانا قابلِ ذکر ہے۔ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فیوچر سٹی کے لیے نیا کمشنریٹ قائم کرنے کے حکومتی فیصلے کے ساتھ اب شادنگر میں نئے ڈی سی پی افسر کی تقرری عمل میں آئے گی۔ شادنگر ڈی سی پی زون کے تحت مجموعی طور پر نو منڈل شامل کیے گئے ہیں۔ شادنگر اے سی پی حدود میں چودر گوڑہ ، کندورگ، کتور، نندی گاؤں اور شادنگر شامل ہیں، جبکہ آمنگل اے سی پی حدود میں آمنگل، کیشم پیٹ، ماڈوگول اور تالکونڈہ پلی منڈل آتے ہیں۔ تاہم اسمبلی حلقہ کے کیشم پیٹ منڈل کو آمنگل اے سی پی حدود میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ باقی تمام پولیس اسٹیشن شادنگر اے سی پی حدود میں رہیں گے۔ اس نئے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں نندی گاؤں اور کتور منڈل کو شمس آباد اے سی پی حدود سے نجات مل گئی ہے۔ شادنگر اسمبلی حلقہ کے عوام کو امن و امان کے معاملے میں مزید بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے اس علاقے کو فیوچر سٹی سے جوڑنا ایک اہم اور دلچسپ پیش رفت ہے ، یہ بات مقامی ایم ایل اے ویرلا پلی شنکر نے کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں نندی گاؤں اور کتور منڈل شمس آباد اے سی پی حدود میں آتے تھے ، مگر اب شادنگر کو ڈی سی پی ہیڈکوارٹر بنایا جانا خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بہتر خدمات، امن و امان کے تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے مقصد سے پولیس نظام کی از سرِ نو حد بندی حکومت کا قابلِ ستائش قدم ہے ، جو مستقبل میں فیوچر سٹی کی تعمیر کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔ ایم ایل اے نے واضح کیا کہ ڈی سی پی زون کے قیام کے سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے ملاقات بھی کی ہے۔ خاص طور پر ایس پی رینک افسر کا شادنگر میں تعینات ہونا ایک نیک بہتر اقدام قرار دیا ہے۔ اور اس سے امن و امان کے معاملے میں بہتر خدمات میسر آئیں گی ، انہوں نے امید ظاہر کی۔ کیشم پیٹ منڈل کو آمنگل اے سی پی حدود میں شامل کیے جانے پر ایک سوال کے جواب میں ایم ایل اے نے کہا کہ وہ اس منڈل کو دوبارہ شادنگر حدود میں شامل کرانے کے لیے اعلیٰ حکام سے بات کریں گے۔