بڑی عمر کی خواتین کے مقابلے کم عمر خواتین کی اکثریت، مسلم تنظیموں نے سروے مسترد کردیا
ممبئی : ہندوستان میں حال میں ایک سب سے بڑے یکساں سول کوڈ پرسروے کے کلیدی نتائج کے مطابق، مسلم خواتین کی اکثریت اس بات کی حمایت میں ہے کہ شادی، وراثت میں طلاق کے لیے اہم اصول وضوابط ترتیب دیئے جائیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی یکساں سول کوڈ کے اہم اصول ہو سکتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ تمام عمر کے گروپوں کی مسلم خواتین یکساں سول کوڈ کا حصہ بننے کی وسیع پیمانے پر اس کی حمایت کرتی ہیں، بڑی عمر کی خواتین جوکہ 44 سال زیادہ کی عمر ہیں ،جبکہ ان کے مقابلے کم عمر خواتین جن کی عمریں44- 18سال ہیں،ا سکی زیادہ حمایت کرتی ہیں۔مسلم تنظیموں نے مذکورہ سروے کومسترد کردیا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ یعنی پوسٹ گریجویٹ مسلم خواتین کی تعداد بھی زیادہ ہے ۔ اس سروے کے عمل کے ایک حصے کے طور پرملک کی 25 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 8,035 مسلم خواتین کے سے گفتگو کی گئی، یہ سمجھنے کے لیے کہ وہ ان مسائل کے بارے میں کیا سوچتی ہیں جنہیں یو سی سی مجموعی طور پر مجوزہ بل کے بجائے حل کرنے کا امکان ہے ۔ اس سروے میں پوچھے گئے سوالات میں یوسی سی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیاہے اور وہ ان موضوعات تک ہی محدود تھے جن کا یوسی سی کا احاطہ کرنے کا امکان ہے ۔ مذکورہ سروے میں شامل تمام مسلم خواتین میں سے 67.فیصد نے اتفاق کیا ہے کہ تمام ہندوستانیوں کے لیے ذاتی معاملات جیسے شادی، طلاق، گود لینے اور وراثت کے لیے ایک مشترکہ قانون ہونا چاہیے ۔ پوسٹ گریجویٹ جواب دہندگان کے لیے جوابات 68.4،فیصد پر قدرے زیادہ تھے ۔ تمام مسلم خواتین میں سے 76.5فیصد پوسٹ گریجویٹ 78.6فیصد تعدد ازدواج سے متفق نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمان مردوں کو چار عورتوں سے شادی کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے ۔ خواتین کی طرف سے سب سے زیادہ حمایت جنس سے قطع نظر جائیداد کے مساوی حقوق اور وراثت کے سوال پر ہے – مجموعی طور پر 82.3،فیصد اور 85.7 فیصدپوسٹ گریجویٹ ہیں۔ تمام جواب دہندگان میں سے 73.7 فیصد متفق ہیں کہ طلاق یافتہ جوڑوں کو بغیر کسی پابندی کے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت ہوگی۔ سروے کے 8,035 جواب دہندگان 18-65+ سال کی عمر کے علاقوں، کمیونٹیز، تعلیمی اور ازدواجی حیثیت کی مسلم خواتین تک محدود تھے ۔ ان پڑھ سے لے کر پوسٹ گریجویٹ تک تعلیمی میدان میں وسیع نمائندگی تھی۔جواب دہندگان کے لیے اپنے نام ظاہر کرنا اختیاری تھا۔ تاہم، 90 فیصد نے اپنے نام بتائے ۔ تاہم، نیوز 18 نے اپنی رازداری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی جواب دہندہ کے نام یا قابل شناخت معلومات کو ظاہر نہیں کیاہے ،ان سے سات اہم سوالات دریافت کیے گئے ، آپ تمام ہندوستانیوں کے لیے ذاتی معاملات جیسے شادی، طلاق، گود لینے اور وراثت کے لیے ایک مشترکہ قانون کی حمایت کرتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں مسلمان مردوں کو چار عورتوں تک شادی کرنے کا حق ہونا چاہیے ؟ کیا تمام مردوں اور تمام عورتوں کو جانشینی اور وراثت کے مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں؟ کیا طلاق یافتہ جوڑوں کو بغیر کسی پابندی کے دوبارہ شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ؟ کیا مذہب سے قطع نظر گود لینے کی اجازت ہونی چاہیے ؟ ۔