شادیوں میں بیجا اسراف معاشرہ کی تباہی ، مسنون نکاح کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت

   

کل ہند مجلس تعمیر ملت کا جلسہ رحمۃ اللعالمین ؐ ۔ مفتی خلیل احمد، مولانا عبیداللہ خاں اعظمی، مولانا احسن بن محمد الحمومی، مولانا مہدی حسن عینی و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔24ستمبر(سیاست نیوز) انسانوں کی تخلیق کا مقصد اللہ کی وحدانیت کی تصدیق اور عبادت ہے ‘ ضروریات کی زندگی کے لئے کچھ کام کرتے ہوئے زندگی کا بڑا حصہ اللہ کی عبادت میںگذارنا ہے اور معبود حقیقی کی معرفت کے بغیرعبادت بے مطلب ہے ۔ اللہ تعالی واحد ہے اور تمام عالموں کے نظام پر اس کی قدرت کی پہچان کے لئے قرآن اور احادیث مبارکہ پر مشتمل ایک دستور دیاگیا ہے ۔ قرآن میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی ممکن نہیں ہے اور احادیث سے انکار کی کسی میںجرات نہیںہے۔رب کائنات کی عبادت اور اسوہ حسنہ کو اپنا نصب العین بنانے میںہی کامیابی وکامرانی ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار شیخ الجامعہ مفتی خلیل احمد ( جامعہ نظامیہ )نے کل ہند مجلس تعمیر ملت کے 74ویں جلسہ رحمت العالمین سے خطاب کے دوران کیا ۔ صدر کل ہند تعمیر ملت ضیاء الدین نیر کی نگرانی میںنمائش میدان میںمنعقدہ اس جلسہ رحمت العالمین میںمولانا عبید اللہ خان اعظمی( سابق رکن پارلیمنٹ)‘ مولانا احسن بن محمد الحمومی امام وخطیب شاہی مسجد باغ عامہ‘ مولانا مہدی حسن عینی ڈائرکٹر انڈیااسلامک اکیڈیمی دیو بند‘ و آرگنائزر اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ عمر احمد شفیق معتمد عمومی تعمیر ملت‘ عزیز الرحمن نے بہ زبان تلگو زبان‘ نے بھی اس جلسہ رحمت العالمین ؐ سے خطاب کیا۔ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں ممتازشاعر ڈاکٹر قاری طیب پاشاہ قادری نے گلہائے عقیدت پیش کیا اور سید شہنواز ہاشمی‘ انصار احمد خان‘ نے نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی۔ جلسہ کا آغاز قاری محمد عبدالواسیع کی قرات کلام پاک سے ہوا اور خطبہ استقبالیہ عبدالقدیر چیرمن شاہین گروپ آف ایجوکیشن نے پیش کیا ۔ اس موقع پر تعمیر ملت کے 74سالہ خدمات پر مشتمل ساونیر کی رسم اجرائی بھی ان ہی کے ہاتھوں سے عمل میں ائی۔ نائب صدر تعمیر ملت وہاج الدین صدیقی نے تعمیر ملت کی کارکردگی اور خدمات پر سرسری روشنی ڈالی جبکہ شکریہ کے فرائض محمدسیف الرحیم قریشی نے انجام دئے اور دعائیہ کلمات مفتی صادق محی الدین فہیم نے ادا کئے ۔ مولانا عبید اللہ خان اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے رب کائنات نے زمین او رآسمان کی تخلیق کے وجوہات بیان کئے۔ انہوں نے کہاکہ اللہ تعالی نے دن رات بنائے ‘ ارض وسماں کی تخلیق عمل میںلائی ‘ سورج چاند تاروں کو بنایا‘ دریا ‘ ندی ‘ بادل برسات‘ کھیت کھلیان او رمیوے پیدا کئے اور پھر بعد میں حضرت آدم علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بناکر دنیامیں بھیجا تاکہ اپنے حبیب ﷺ کی آمد کے لئے دنیاعالم میں ماحول بنایاجاسکے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہاکہ دہشت گردی کی شروعات سب سے پہلے اہل عرب نے سروردوعالمﷺ کے اعلان حق کے بعد سے کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کوہ صفاء کی پہاڑی سے نبی رحمتﷺ نے جب اللہ رب العزت کی وحدانیت او راپنے رسالت کا اعلان کیاتو وہ لوگ جو آپ ﷺ کو صادق او رامین کے لقب سے نوازتے اور آپﷺ پر اپنے آپ سے زیادہ بھروسہ کرتے اور اپنا مال اوردولت امانت کے طور پر آپﷺ کے پاس رکھاتے وہی لوگ سرورکونینﷺ کی جان کے دشمن بن گئے اور ایک نہتے رسول اکرمﷺ پر اس قدر ظلم وستم ڈھائے جس کو سن کر انسانیت آج بھی شرمندہ ہوجاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گرد ی کا مطلب ہی مظلوم پر ظلم کرنا‘ کمزور اور بے بس لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا او رمعاشرے میں انہیںیکا وتنہا کرنے کی کوشش کرنا اور جو بھی ان کاموں کوانجام دیتا ہے وہ دنیاکا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے ملت اسلامیہ کے زوال کے اسباب اسوہ حسنہ سے دوری قراردیا اورکہاکہ سود‘ شراب‘ زنا سے پاک معاشرہ کی تشکیل سروردوعالمﷺنے دی مگر دور ھذا میں سود ‘ شراب زنا کی لعنت میں ہمارا نوجوان طبقہ گھرا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دور نبوت میںمسجد نماز اورتبلیغ دین کے ساتھ ساتھ سماجی برائیوں کو ختم کرنے کے لئے کونسلنگ سنٹرس کے طور پر استعمال ہوا کرتی تھی مگرآج مساجد کونماز تک محدود کردیاگیاہے ۔ مولانا عینی قاسمی نے کہاکہ شادیوں میںبیجا اصراف معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسنون نکاح کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔عمراحمد شفیق نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ ساجد عارف رئوف نے سرورِ دوعالم صلی اللہ کی بارگاہ اقدس میںسلام کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد جلسہ کا اختتام عمل میںآیا۔