سود لینے اور دینے والوں کیلئے سخت وعید، سنت رسولؐ کے مطابق تقاریب کو پاک بنانے کی ضرورت
حیدرآباد۔29اگسٹ(سیاست نیوز) سود حرام ہے اور سود کے لینے اور دینے والے کے متعلق کئی وعیدیں سنائی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی تقاریب کے انعقاد کے لئے سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے پر تعیش طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے جو کہ شرکائے تقریب کو بھی سود ی معاملت کے ذریعہ حاصل کی گئی رقم کا حصہ نادانستہ طور پر حصہ بنایاجاتا ہے۔ شہرمیں ہونے والی تقاریب ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرتے ہوئے نمائش کا ذریعہ بننے لگی ہیں اوراحباب و رشتہ دار تقاریب کے انعقاد کے معاملہ میں مقابلہ آرائی پراتر آئے ہیں اور اس مقابلہ اور ذاتی تسکین کے لئے شرعی حدود کو پھلانگتے ہوئے سودی معاملات کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔شرعی معاملات و احکام پر عمل آوری کے سلسلہ میں مسلمان اپنے طور پر کوئی اقدام کرتے ہیں اور تو انہیں کوئی مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ شریعت پر عمل نہ کرے لیکن آپسی مقابلہ کے دوران شرعی اصولوں اور احکام کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کی جانے والی تقاریب امت کی تباہی کا سبب بننے لگی ہیں اور ان تقاریب کے دوران نہ صرف نمائش کی جا رہی ہے بلکہ بہترین سے بہترین اشیائے تغذیہ کی تیاری کے نام پر کھانا ضائع کیا جانے لگا ہے اسی طرح شرکائے دعوت پر رعب و دبدبہ کے لئے کئی طرح کے انواع و اقسام کے پکوان اور اشیاء رکھے جانے لگے ہیں ۔شہر میں اب تک دلہن کے خاندان پر بوجھ عائد کئے جانے کی شکایت کی جاتی تھی لیکن اب ولیمہ کی تقاریب بھی اس قدر پر تعیش ہوتی جا رہی ہیں کہ انہیں بھی دیکھ کر مقابلہ کا گمان ہونے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں جس طرح سے شادی خانو ںکو فروغ حاصل ہونے لگا ہے اور سرمایہ دار طبقہ کی جانب سے شہرکے کئی علاقوں میں شادی خانو ںمیں سرمایہ کاری کی جانے لگی ہے اسے دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوگ کس طرح سے اپنی تقاریب پر خرچ کرنے لگے ہیں ۔ تقاریب میں اسراف کی صورت کیا ہے اس بات کا اندازہ لگانا کسی کیلئے مشکل نہیں ہے اور دینی علوم سے معمولی واقفیت رکھنے والوں کی جانب سے بھی بہ آسانی یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ غیر شرعی رسوم یا عمل ہیں لیکن اس کے باوجود ان پر کوئی احتجاج نہیں کیا جا رہاہے اور نہ ہی ان غیر شرعی اعمال میں مبتلاء لوگوں کو تنبیہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب شریعت کے احکام کے خلاف کوئی عمل کیا جاتا ہے تو اس کو روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے لیکن تقاریب کے دوران ہونے والی غیر شرعی حرکات کا حصہ اکثر مسلمان ہی ہیں لیکن ان میں کسی بھی طرح سے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے جبکہ تقاریب کے داعیان کے قربیی احباب اس بات سے بھی واقف ہوتے ہیں کہ کن حالات میںیہ تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں اور کس طرح سے ان تقاریب میں شرعی احکام کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ تقاریب کے انعقاد اور شان و شوکت کی غرض سے کی جانے والی حرکتیں معاشرہ میں تو کچھ عزت بخش دیں گی لیکن اس بات کو فراموش کیا جانے لگا ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے آگے کس حد تک ذلت و رسوائی کا سبب بنیں گی۔ سودی معاملتوں میں مبتلاء ہوتے ہوئے شان و شوکت کا اظہار کرنا جھوٹی شان کہلاتا ہے اور اس بات کی پرواہ کئے بغیر لوگ اس میں مبتلاء ہونے لگے ہیں۔ہندستان میں مسلمان جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں ان حالات میں اس طرح کی پر تعیش تقاریب اور غیر شرعی حرکات ان کے مستقبل کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے لیکن وہ اس بات سے بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو کہ ان کے حق میں بہتر نہیں ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ہونے والی شادی یا ولیمہ کی تقریب میں کئے جانے والے خرچ کا اندازہ لگایاجائے تو ایک تقریب کیلئے کم از کم 12تا15لاکھ روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں اور اگر کسی کو 4یا5 ایسی تقاریب منعقد کرنی ہے تو وہ سودی معاملت کا حصہ بن رہا ہے اور یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے کوئی برا کام نہیں کیا ہے جبکہ کسی حکومت یا ادارہ نے اسے غیر شرعی عمل کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا ہے بلکہ خود اس نے یہ راستہ اختیار کیا ہے اور سودی لین دین کا حصہ بنا ہے۔شہر حیدرآباد میں سودی معاملتوں کو انتہائی معیوب اور برا سمجھا جاتا تھا لیکن فی زمانہ ان معاملتو ںکے سلسلہ میں جو موقف اختیار کیا جارہاہے وہ انتہائی نرم ہونے لگا ہے اسی وجہ سے ہر کوئی ان معاملتو ںکا حصہ بنتا جارہا ہے اور اس میں انہیں کوئی قباحت نظر نہیں آرہی ہے ۔تقاریب بالخصوص نکاح اور ولیمہ جو کہ سنت رسولﷺ ہے ان تقاریب کو سودی معاملتوں سے پاک بنایاجانا انتہائی ناگزیر ہے کیونکہ سنت رسولﷺ پر عمل آوری کے نام پر احکام رسولﷺ سے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح سے کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ سنت پر عمل کرتے ہوئے نکاح یا ولیمہ کی تقریب منعقد کر رہا ہے اسی لئے ان تقاریب کو شرعی اصولوں اور احکام کے مطابق منعقد کرنے کی مہم شروع کرنا ملت کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
