شادی سے متعلق غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے قاضیوں کا اہم رول

   

وقف بورڈ میں قاضی تنظیموں کا اجلاس، قانون سازی کیلئے وقت لگے گا: محمد سلیم
حیدرآباد ۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے قاضیوں اور ان کی تنظیموں کو مشورہ دیا کہ وہ لڑکیوں کی شادی کی عمر سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے میں اہم رول ادا کریں۔ محمد سلیم نے آج وقف بورڈ میں قاضیوں کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس میں مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں لڑکیوں کی شادی کی عمر کو 18 سے بڑھا کر 21 کرنے سے متعلق بل کی پیشکشی کا جائزہ لیا گیا۔ محمد سلیم نے کہا کہ قاضیوں کو مرکزی حکومت کے چائلڈ میریج ترمیمی بل 2021 کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بل کی پیشکشی کے ساتھ ہی مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اور عجلت میں لڑکیوں کی شادیاں انجام دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں یہ بل متعارف کیا گیا لیکن منظور نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ کی سلیکٹ کمیٹی سے بل کو رجوع کیا گیا ہے اور منظوری کے مرحلے تک کافی وقت لگ سکتا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ عوام میں غلط فہمیوں کے ازالے کے ذریعہ عجلت کی شادیوں کو روکا جاسکتا ہے۔ سماج کے مختلف گوشوں سے اس بارے میں وقف بورڈ سے وضاحت طلب کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قاضیوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو اس بات سے واقف کروائیں کہ موجودہ قانون کے تحت 18 سال کی عمر میں لڑکی کی شادی کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کی تجاویز کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بل کی منظوری ضروری ہے جس کے بعد صدر جمہوریہ کی جانب سے منظوری اور نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔ ان تمام مراحل کے لئے کم از کم مزید دو سال لگ سکتے ہیں۔ محمد سلیم نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی پارلیمنٹ میں اس بل کی تائید نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام چیف منسٹرس سے اسی طرح کی اپیل کی جائے گی تاکہ پارلیمنٹ میں قانون سازی نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔ محمد سلیم نے کہا کہ 18 سال کی عمر میں شادی صرف مسلمانوں میں نہیں بلکہ دیگر مذاہب میں بھی انجام دی جاتی ہیں۔ اجلاس میں قاضیوں کے نمائندوں نے تیقن دیا کہ وہ حقیقی صورتحال سے عوام کو واقف کرائیں گے تاکہ شادیوں کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔ اجلاس میں قاضی محمد یوسف الدین (قلعہ محمد نگر)، قاضی سید شاہ نور الاصفیا (قاضی سکندرآباد)، قاضی سید لطیف علی قادری، قاضی سید افضل حسین (یلاریڈی)، قاضی سید نور اللہ فاروق عارفی اسسٹنٹ سکریٹری وقف بورڈ اور وقف بورڈ کے دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ ر