شادی مبارک اسکیم ، بھینسہ کے درخواست گذاروں کو ایک سال سے مایوسی

   


آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کی ترقی کیلئے فنڈس کی منظوری ناگزیر، حکومت کی توجہ ضروری

بھینسہ 5/جنوری (اظہر احمد خان کی رپورٹ) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں شادی مبارک اور کلیانہ لکشمی اسکیم کو روبعمل لاتے ہوئے عوام کو ایک تحفہ فراہم کیا گیا لیکن بھینسہ شہر میں شادی مبارک کے درخواست گذار گذشتہ ایک سال سے بھی زائد عرصہ سے اس اسکیم سے مستفید ہونے کے منتظر ہے ۔ محکمہ ریونیو عہدیدار کے مطابق بھینسہ ڈیویڑن کیلئے ماہانہ شادی مبارک اسکیم کیلئے صرف 35 لاکھ روپئے منظور کئے جاتے ہیں جو ناکافی رقم ہے کیونکہ بھینسہ ڈیویڑن میں 26 بلدی وارڈوں پر مشتمل بھینسہ شہر کے علاوہ سات منڈل موجود ہے جس میں تقریبا دو سو مواضعات شامل ہے جہاں کثیر تعداد میں مسلم آبادی پائی جاتی ہے اس ضمن میں بھینسہ شہر کے مسلمانوں بلخصوص شادی مبارک درخواست گذاروں نے مقامی رکن اسمبلی جی وٹھل ریڈی ، ضلع سے تعلق رکھنے والے ریاستی وزیر اندرا کرن ریڈی ، ضلع کلکٹر مشرف علی فاروقی اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ بھینسہ ڈیویڑن کیلئے شادی مبارک اسکیم کے ماہانہ بجٹ 35 لاکھ کو مسلم آبادی کے اعتبار سے اضافہ کرتے ہوئے ایک کروڑ تک کیا جائے تاکہ مسلمانوں کو شادی مبارک کی درخواست داخل کرکے ایک سے دیڑھ سال تک کا انتظار نہ کرنا پڑے مذکورہ اسکیم کے درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں شادی بیاہ کی تقریبات میں کلیانہ لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کی امید پر قرض حاصل کرتے ہوئے اخراجات کو یقینی بنایا گیا ہے لیکن حکومت تلنگانہ کے وعدے ہتھیلی میں جنت دکھانے کے مترادف ثابت ہورہے ہیں ، کیونکہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے انتظار میں عوام مقروض ہوکر پریشان حال زندگی گذارنے پر مجبور ہورہی ہے ۔ بھینسہ کے مسلمانوں نے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ہیکہ تلنگانہ وزیراعلی کے سی آر علحدہ تلنگانہ کے قیام اور انتخابات کے دوران کئے گئے اپنے وعدوں کے مطابق ریاست کے مسلمانوں کو تمام شعبہ جات اور اسکیمات میں مسلم آبادی کے تناسب کے مطابق حصہ داری اور رقم کی منظوری کے ذریعہ راحت فراہم کرتے ہوئے اقلیتی سبسیڈی قرضہ جات کی رقم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے آن لائن تاریخ میں بھی توسیع کی جائے اور حقیقی بیروزگار نوجوانوں کو سبسیڈی قرضہ جات کی فراہمی کیلئے بینک مشاورت (Bank Consulting) کے لزوم کو برخواست کرتے ہوئے راست طور پر سبسیڈی کی رقم منتخب درخواست گذاروں کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائی جائے تاکہ اقلیتی طبقے کے حقیقی بیروزگار نوجوانوں روزگار سے منسلک ہوکر اپنے افراد خاندان کی کفالت کرسکے بھینسہ کے مسلمانوں نے تلنگانہ وزیراعلی کے سی آر سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کریں ناکہ مسلمانوں کے کان خوش کرنے کی پالیسی کو اپناتے ہوئے مسلمانوں کا مستقبل تباہ کریں۔