شادی مبارک کے تحت ایک لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التواء

   

Ferty9 Clinic

ریاست کا کمزور مالی موقف، فنڈز کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں عوام پریشان

حیدرآباد۔ ریاست کے کمزور مالی موقف کے نتیجہ میں تلنگانہ کے فلاحی اسکیمات پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے تحت غریب لڑکیوں کی شادی پر ایک لاکھ روپئے سے زائد کی امداد کی جاتی ہے لیکن گذشتہ کئی ماہ سے دونوں اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی مبارک اور کلیان لکشمی کے تحت ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد درخواستیں حکومت کے پاس زیر التواء ہیں اور دونوں اسکیمات کیلئے حکومت کی جانب سے بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ غریب خاندانوں کیلئے یہ اسکیمات غیر معمولی راحت کی طرح تھیں لیکن کورونا لاک ڈاؤن کے بعد حکومت نے فلاحی اسکیمات کے بجائے انتہائی لازمی خدمات کیلئے بجٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے تین ماہ تک ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی تھی تاہم بعد میں اسے بحال کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی، ای بی سی اور اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں غریب خاندان حکومت کی امداد کیلئے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ کررہے ہیں۔ اسکیم کے تحت شادی کیلئے ایک لاکھ 116 روپئے کی امداد کی جاتی ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں 5 لاکھ 32 ہزار 451 خاندانوں کو اسکیم سے فائدہ ہوا۔ محکمہ سماجی بھلائی کے ذرائع نے بتایا کہ 2020-21 کے بجٹ میں حکومت نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی کیلئے 1350 کروڑ روپئے مختص کئے تھے۔ ابتدائی دو سہ ماہی میں 675 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ تیسرے سہ ماہی کیلئے 337 کروڑ کی انتظامی منظوری دی گئی لیکن یہ رقم تمام زیر التواء درخواستوں کیلئے کافی نہیں ہے۔ محکمہ کے عہدیدار فنڈز کی اجرائی کے سلسلہ میں کچھ بھی کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کبھی محکمہ فینانس بجٹ جاری کرے گا درخواستوں کی یکسوئی کردی جائے گی۔ حیدرآباد میں 25 ہزار سے زائد درخواستیں زیر التواء ہیں ۔