تلنگانہ کے ویملواڑہ ٹاؤن کے مسلمانوں کا فیصلہ
حیدرآباد 22 جنوری (یو این آئی) کورونا کی صورتحال میں لڑکیوں کی شادیوں کے لئے ان کے خاندانوں پر عائد ہونے والے بھاری مالی بوجھ کے پیش نظر تلنگانہ کے راجنا سرسلہ ضلع کے ویملواڑہ ٹاون کے مسلمانوں نے شادی میں صرف ایک ڈش اور ایک میٹھا ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اب تک شادیوں میں چکن، مٹن اور تمام دیگر طرح کی ڈشس کو رکھاجاتا تھا تاہم کورونا وبا کی لہر کے دوران کئی افراد کو مالی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے کیونکہ ان کے کاروبار میں کمی ہوگئی ہے اورکئی کاروبارکرنے والوں کو نقصان ہوا ہے ۔ لڑکیوں کی شادیوں میں طرح طرح کی ڈشس رکھنے سے زائد مالی بوجھ عائد ہورہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیاہے ۔کم از کم ایک کم خرچ والی شادی پر چار تا پانچ لاکھ روپئے کے اخراجات عائد ہوتے ہیں۔موجودہ صورتحال پر یہ بوجھ زائد ہے ۔غریب اور متوسط مسلم خاندانوں کی طرف سے علما کو اس سلسلہ میں شکایات حاصل ہورہی تھیں جس کو دیکھتے ہوئے یہ انوکھا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ویملواڑہ ٹاون کی نئی کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا ہے ۔ایک بگھارا کھانا، مٹن یا ایک چکن اور ایک ہی میٹھا شادیوں میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔شادی کے لئے ہونے والے اخراجات میں کمی کے لئے یہ فیصلہ کیاگیا ہے۔ حال ہی میں ویملواڑہ کے ایک شادی خانہ میں 8مساجد کمیٹیوں کے ذمہ داروں کا اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیاگیااور اس خصوص میں قرارداد منظور کی گئی۔اس قرارداد پر آنے والے ماہ کی پہلی تاریخ سے عمل کیاجائے گا۔