شادی کیلئے ایجاب و قبول کی اہمیت کے حامل، اسلامی رو سے شادی کو آسان بنانے پر زور

   

سیاست و ملت فنڈ کا رشتوں کا دو بہ دو پروگرام، جناب ظہیرالدین علی خان و دیگر کی مخاطبت

حیدرآباد 7 نومبر (سیاست نیوز) سیاست اور ملت فنڈ کے زیراہتمام رشتوں کا 108 واں دو بہ دو ملاقات پروگرام آج کشش کنونشن جس میں والدین کی کثیر تعداد دیکھی گئی۔ آج کے اس پروگرام کی نگرانی جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کی جن سے والدین کی بڑی تعداد اور شہر کے دانشوروں نے ملاقات کرتے ہوئے انھیں مبارکباد دی۔ پروگرام میں پرانے شہر کے علاوہ حیدرآباد کے مضافاتی علاقوں اور بوئن پلی، لالہ گوڑہ، بالا نگر، سکندرآباد، لنگم پلی، کوکٹ پلی اور دوسرے مقامات سے والدین کشش کنونشن پہنچ کر لڑکوں اور لڑکیوں کا رجسٹریشن کروایا اور اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتوں کے لئے والدین سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ جناب محمد فضل الرحمن ریٹائرڈ ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ آبرسانی نے کہاکہ شادی کے لئے ایجاب و قبول کی بڑی اہمیت ہے۔ ایجاب کے بعد اجنبی چہرے رشتہ ازدواج سے منسلک ہوجاتے ہیں لیکن ان دنوں سماج و معاشرہ شادیوں کے لئے بڑے کٹھن مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان اسلامی رو سے شادی کے مسئلہ کو آسان کریں۔ انھوں نے کہاکہ رشتہ کے جڑنے میں ہمیشہ سادگی کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے و حماقت کے پیش نظر کئی ایک کی زندگیوں میں دراڑ پیدا ہوچکا ہے۔ جناب محمد فاروق کرسٹل انفرا چیرمین نے دونوں شہروں میں سیاست اور ملت فنڈ کی جانب سے 108 ویں دو بہ دو ملاقات پروگرام پر جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست اور جناب ظہیرالدین علی خان کو مبارکباد دی جنھوں نے معاشرہ کے اہم مسئلہ کی طرف اپنی توجہ کو مبذول کرتے ہوئے شادی کو آسان بنانے کی طرف زور دے رہے ہیں بلکہ دو بہ دو ملاقات کے ذریعہ بے چین والدین کے لئے سہولت مہیا کی جارہی ہے جو اہم بات ہے۔ انھوں نے کہاکہ شہر کے مضافاتی علاقوں سے اس پروگرام میں والدین کی شرکت کو دیکھ کر اس بات کا احساس ہورہا ہے کہ والدین اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں کے لئے کتنے مضطرب ہیں، انھیں چاہئے کہ وہ رب العزت کے حضور دعائیں مانگیں اس لئے کہ وہی کارساز ہے۔ ڈاکٹر شیخ سیادت علی نے کہاکہ رشتوں کی پائیداری میں اگر شریعت کا لحاظ رکھا جائے گا تو یہ رشتے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوں گے۔ لین دین صرف دکھاوا ہے یہ کام آنے والا نہیں ہے کام تو ہر دونوں کے اخلاق و کردار ہی آئیں گے جو رشتوں اور خاندان کو عزت دلوانے کے باعث بنیں گے۔ جناب عبداللہ باحاذق نے کارروائی چلائی اور شرکاء کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ جناب زٓہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی سرپرستی اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی نگرانی میں یہ پروگرام روز افزوں ترقی کرتے ہوئے اقطاع عالم میں اپنی شناخت بناچکا ہے اور اس پروگرام نے دیارِ غیر میں بھی اپنی ایک انوکھی چھاپ چھوڑی ہے۔ اس لئے والدین اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں اور اپنے سارے معاملات کے لئے اسی کے حضور دعائیں مانگیں۔پروگرام میں حسب سابق پروگرامس کی طرح کاؤنٹرس بنائے گئے تھے جس میں والینٹرس والدین کی رہنمائی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ انجینئرنگ، میڈیسن، پوسٹ گریجویشن، گریجویٹ، انٹرمیڈیٹ، ایس ایس سی، عقدثانی، تاخیر سے شادی کے لئے کاؤنٹرس بنائے گئے جہاں پر والدین نے ایک دوسرے سے بات چیت کی۔ ان کاؤنٹرس پر جن والینٹرس کو متعین کیا گیا تھا انھوں نے رہبری و رہنمائی کی۔ انجینئرنگ کاؤنٹر پر کوثر جہاں، رئیس النساء، ڈاکٹر شیخ سیادت علی، پوسٹ گریجویشن پر شاہانہ، صباء، انٹرمیڈیٹ و ایس ایس سی پر شہناز، محمد احمد، عقدثانی کاؤنٹر پر محترمہ لطیف النساء، آمنہ، کمپیوٹر سیکشن پر یاسمین، عائشہ فاطمہ، علینا، ثمرین، کرشمہ، اشرف خاتون، جبین موجود تھیں جنھوں نے والدین کو بائیو ڈاٹاس بتائے۔ اس پروگرام میں والدین کے لئے اپنے بائیو ڈاٹاس کو رجسٹریشن کروانے کے لئے رجسٹریشن فیس 250 روپئے رکھی گئی تھی جسے والدین اور سرپرستوں نے ادا کیا۔ اس کے علاوہ دو بہ دو پروگرام سیاست میٹری ڈاٹ کام کاؤنٹر قائم کیا گیا جس کے ذریعہ اس بات کی سہولت موجود ہے کہ وہ 200 ، 500 اور 1000 روپئے فیس ادا کرتے ہوئے کمپیوٹرس پر بہ آسانی رشتے تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کاؤنٹرس سے بھی والدین نے استفادہ کیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے علیحدہ رجسٹریشن کاؤنٹرس قائم کئے گئے جن پر محمودہ فردوس، یاسمین بیگم، آمنہ، اسماء فاطمہ اور آن لائن رجسٹریشن پر یاسمین، سیدہ، اُمۃ الفاطمہ، شمیم موجود تھیں۔ ان تمام والینٹرس نے بڑے حسن و خوبی کے ساتھ والدین کی رہبری و رہنمائی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ رجسٹریشن کا آغاز 11 بجے دن سے ہوا۔ آج کے اس پروگرام میں لڑکوں کے 35 اور لڑکیوں کے 40 رجسٹریشن ہوئے۔ اس کے علاوہ سیاست کے فیس بُک، اسکیپ اور یو ٹیوب پر راست اس پروگرام کا گھر بیٹھے مشاہدہ کرنے کے لئے اندرون ملک اور بیرون ممالک ٹیلی کاسٹ کی سہولت مہیا کی گئی اس لئے اس پروگرام کو ملک کی تمام ریاستوں کے اضلاع، بیرونی ممالک امریکہ، کنیڈا، آسٹریلیا، سعودی عرب، دوحہ، قطر، دوبئی اور دیگر ممالک کے خاندانوں نے اس پروگرام کو دیکھا اور سراہنا کی۔ اُنھوں نے اپنے پیام میں تحریر کیاکہ اس طرح کا پروگرام وقت کی ایک اہم ضرورت ہے جس کو بھانپتے ہوئے جناب زاہد علی خان، جناب ظہیرالدین علی خان اور جناب عامر علی خان نے ملک اور بیرونی ممالک کے بے چین والدین کی اولاد کو رشتہ ازدواج سے منسلک کرنے یہ پروگرام رکھا ہے۔ ان کے یہ 108 ویں پروگرام پر صمیم قلب سے اُنھیں مبارکباد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کے اس کاوش کو قبول کرے اور جو والدین رشتوں کے ضمن میں بے تاب و بے چین ہیں اُنھیں آسانیاں فراہم ہوں اور جن جن لڑکیوں کے رشتے طے پاچکے ہیں اُن کی زندگیاں سُکھ و آرام و چین سے گزرے۔ اس موقع پر کشش کنونشن کے جناب سید نعیم الدین، جناب امجد، جناب محمد فاروق کرسٹل انفرا چیرمین اور دیگر کے علاوہ محکمہ پولیس اور دوسروں سے اظہار تشکر کیا گیا۔ جناب خالد محی الدین اسد کوآرڈی نیٹر پروگرام نے انتظامات کی بحسن و خوبی نگرانی کی۔ اس پروگرام فیروز، محمد احمد، اظہر، نظام الدین لئیق، محمد عثمان اور دوسروں نے حصہ لیا۔