مسلم لڑکی نے عاشق سے شادی کے بعد ہندو دھرم اختیار کرلیا تھا
لکھنؤ : الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کوئی بھی شخص شادی کی خاطر مذہب تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس سال جون میں ایک مسلم لڑکی نے عاشق سے شادی سے ٹھیک ایک ماہ 2 دن قبل ہی مذہب اسلام کو چھوڑ کر ہندوازم اختیار کرلیا تھا۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ صرف شادی کی غرض سے اس طرح سے مذہب کی تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ جسٹس ترپاٹھی نے خاتون کا بیان سماعت کرنے کے بعد یہ رولنگ دی۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے اس سے پہلے اس جوڑے کی درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس جوڑے نے اپنی شادی کے بعد تین ماہ تک پروٹیکشن دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ جس خاتون نے درخواست داخل کی ہے، وہ جنم سے مسلم تھی، لیکن ہندو شخص سے اپنی شادی سے ایک ماہ قبل اس نے ہندومت کو اختیار کرلیا۔ واحد رکنی بینچ کے جج جسٹس مہیش چندرا ترپاٹھی نے 23 ستمبر کو اس جوڑے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے رشتہ داروں کو ہدایت دی تھی کہ ان کی شادی میں مداخلت نہ کریں۔
