شادی کے موقع پر زائد فیس کی وصولی اور طلاق کے واقعات پر وقف بورڈ کا مشاورتی اجلاس

   

Ferty9 Clinic

مقررہ فیس وصول کرنے قاضیوں کو ہدایت، طلاق اور خلع میں عجلت کے بجائے کونسلنگ کرنے کا مشورہ
حیدرآباد: 5 اگست (سیاست نیوز) شادی بیاہ کے موقع پر قاضیوں کی جانب سے زائد فیس کی وصولی اور طلاق کے معاملات کی حوصلہ شکنی کے لیے وقف بورڈ کی جانب سے قاضیوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے قاضیوں کی اسوسی ایشن کے ذمہ داروں کے علاوہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے ساتھ قاضیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ شادیوں کے موقع پر دولہا اور دلہن والوں سے زائد فیس حاصل کرنے سے گریز کیا جائے۔ اسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ لڑکے والوں سے 1800 اور لڑکی والوں سے 1200 روپئے وصول کرنے کی تمام قاضیوں کو ہدایت دی گئی ہے۔ بعض مقامات پر نائب قاضی اور قاری النکاح کی جانب سے زائد رقم وصول کرنے کی شکایات ملی ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے قاضیوں سے کہا کہ وہ طے شدہ رقم پر قائم رہیں اور زائد رقم کا مطالبہ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ غریب خاندانوں کی صورت میں فیس میں مزید کمی کی جائے تاکہ زائد بوجھ نہ پڑے۔ قاضیوں نے بتایا کہ غریب خاندانوں سے رعایتی فیس وصول کی جاتی ہے اور اجتماعی شادیوں کی صورت میں قاضی کسی فیس کے بغیر نکاح پڑھاتے ہیں۔ صدرنشین وقف بورڈ نے قاضیوں کی اسوسی ایشن کو مشورہ دیا کہ وہ طے شدہ فیس کی وصولی کے لیے اپنے نائبین اور قاری النکاح کو پابند کریں۔ زائد فیس کی وصولی سے سماج میں قاضیوں کا وقار مجروح ہوسکتا ہے۔ انہوں نے طلاق اور خلع کے واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قاضیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ علیحدگی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے دونوں خاندانوں کو ملانے کے لیے کونسلنگ کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی طلاق یا خلع کے لیے رجوع ہوتا ہے تو قاضی کو چاہئے کہ وہ آپس میں بات چیت کے ذریعہ اختلافات اور ناراضگی کو دور کرے تاکہ مسلمانوں میں طلاق اور خلع کے رجہان کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق یا خلع کی تکمیل میں عجلت کے بجائے دونوں کو کونسلنگ کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا وقت دیا جائے۔ اجلاس میں رات دیر گئے کی شادیوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ صدرنشین وقف بورڈ قاضیوں نے کہا کہ نکاح کی تکمیل عشاء کے بعد مکمل کی جائے اور رات 12 بجے تک تقریب کا اختتام ہو۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ رات 11 بجے نکاح کا اہتمام کیاجارہا ہے اور صبح تک دعوت کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ محمد سلیم نے قاضیوں اور مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو اس سلسلہ میں شعور بیداری کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصلاح معاشرہ کی مہم کے ذریعہ ان برائیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کے معاملے میں قاضیوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔ محرم کے بعد قاضیوں کا ایک اور اجلاس طلب کیا جائے گا۔ مشاورتی اجلاس میں قاضی میر قادر علی شریعت پناہ بلدہ، قاضی حبیب احمد بن سالم، قاضی امیر، قاضی سید شاہ نورالاسفیا، ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد محمد قاسم اور وقف بورڈ کے عہدیداروں نے شرکت کی۔