حافظ سید مزمل ہاشمی پر لاٹھیوں اور آہنی سلاخوں سے حملہ کیا گیا تھا
حیدرآباد : /22 فبروری (سیاست نیوز ) شہر کے علاقہ میلاردیوپلی میں پانچ دن قبل آہنی سلاخوں اور لاٹھیوں سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 25 سالہ نوجوان سید مزمل ہاشمی ساکن بی کے پورم شاستری پورم ہفتہ کی رات ایک دواخانہ میں جہاں وہ زیرعلاج تھا زخمیوں سے جانبر نہ ہوسکا ۔ تفصیلات کے مطابق 20 سالہ محمد عارف جو مقتول مزمل ہاشمی کا بھائی ہے گزشتہ تین سال سے غوث ابراہیم کی الیکٹرک شاپ میں ملازمت کررہا تھا اور /10 فبروری کو اسے غوث نے نوکری سے برخواست کردیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 17 فروری کو محمد غوث نے محمد عارف کو اپنے مکان طلب کیا اور یہ سوال کیا کہ وہ کیوں اس کا ای میل آئی ڈی استعمال کررہا ہے جبکہ اس نے ملازمت ترک کردی ۔ اسی دوران غوث کے بیٹے الطاف نے فردین کو شدید زدوکوب کیا اور وہاں سے فرار ہوگیا ۔ فردین نے اس بات کی اطلاع اپنے بھائی مزمل کو دی اور اس اطلاع پر مزمل نے اپنے دوستوں کے ہمراہ غوث کے مکان پہنچکر اپنے بھائی پر حملہ کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جہاں مقامی جماعت کے بعض لیڈروں بشمول غوث اس کے بیٹے الطاف ، قدیر ، خلیل ، اسماعیل ، نذیر اور دیگر نے مزمل اور اس کے ساتھیوں پر آہنی سلاخوں و لاٹھیوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا ۔ مزمل کو انتہائی نازک حالت میں دواخانہ شریک کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے غوث اور دیگر کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا تھا ۔ اس حملہ میں مزمل کے علاوہ فردین اور عبدالریان بھی زخمی ہوئے تھے اور انہیں بھی دواخانہ شریک کیا گیا تھا ۔ انسپکٹر پولیس میلاردیوپلی بی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ مزمل کی موت کے بعد کیس کے دفعہ میں ترمیم کرکے اسے قتل کا مقدمہ بنایا اور خاطیوں کی تلاش جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ علاقہ شاستری پورم میں رمضان سے عین قبل مزمل پر مقامی جماعت اور دیگر کی مدد سے مزمل پر حملہ کیا گیا تھا اور یہ ظلم کا شکار ہوکر فوت ہوگیا ۔ ب