شاعر جمالیات شاذ تمکنت کی شاعری اپنے عہد کے کربناک اور سفاک مسائل کی آئینہ دار

   

مرزا غالب اکیڈیمی کا ادبی اجلاس ، اکابرین علم و ادب کا اظہار خیال
حیدرآباد :۔ شاذ کا نام جوں ہی زبان پر آتا ہے ذہن از خود اس نکتے پر مرکوز ہوجاتا ہے کہ مختصر سی عمر اور سوئے عدم کا سفر ۔ اس کے باوجود شاذ اپنی شعری اور نثری تخلیقات میں سانس لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ وہ ایسے انمٹ نقوش چھوڑ گئے جس کی تحقیق مستقبل میں ہوتی رہے گی ۔ ان خیالات کا اظہار شاعر اور شاذ کے ہمعصر جناب مصحف اقبال توصیفی نے کیا ۔ وہ مرزا غالب اکیڈیمی حیدرآباد کے ماہانہ ادبی اجلاس کی صدارت فرما رہے تھے جو 20 مارچ کو 8 بجے رات اردو گھر مغل پورہ منعقد ہوا تھا ۔ انہوں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے شاذ کی معیت میں گذرے ہوئے خوشگوار لمحات کو یاد کیا اور کہا کہ مخدوم ، جامی اور شاذ سے حیدرآباد جانا اور پہچانا گیا ۔ قبل ازیں پروفیسر رحمت یوسف زئی سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے شاذ کے فکر و فن کے حوالے سے کئی انکشافات کیے اور کہا کہ نصیر الدین ہاشمی اپنے معاصرین میں تحقیق و تنقید کے میدان کی اہم شخصیت تصور کئے جاتے تھے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں شاذ کا ذکر کیا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاذ اہل علم ، صاحب بصیرت اور دیدہ بینا رکھنے والوں کی نظر میں شاعری کے آغاز سفر ہی سے تھے ۔ شاذ کی شاعرانہ حیثیت جس قدر مستحکم ہے اتنی ہی مستحکم ان کی نثر بھی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ شاذ کو انتقادی اور تجریاتی قوت بھی حاصل رہی ۔ نظم ہو کہ نثر ان کا ایک خاص ڈکشن تھا ۔ مشہور کالم نگار جناب سید امتیاز الدین نے کہا کہ 1948 ء میں شاذ نے شاعری شروع کی تھی ، اس زمانے میں اردو ذریعہ تعلیم کا معیار بلند تھا ۔ صدف جائس شاذ کے اساتذہ میں تھے ۔ امیر مینائی کے پوتے بھی شاذ کو پڑھاتے تھے ۔ شاذ نے تخلیقی میدان میں مختلف اصناف کے وسیلے سے اپنی فکر کے جو ہر دکھائے ہیں ۔ خوبی ان کے کلام کی یہ ہے کہ ان کے پاس موضوعات کا تنوع ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاذ بنیادی طور پر روحانی شاعر ہیں ، لیکن اپنے عصر کے مسائل انسانی ، دکھ درد ، زندگی کی ناکامیاں اور عدم مساوات کا احساس بھی ان کے کلام میں موجود ہے ۔ نیز منظر نگاری ، رات کا حسن ، کلیوں کی چٹک ، پرندوں کی دلفریب چہچہاہٹ ، موسیقی کی دلکشی ، ساز و آواز کا آہنگ ، معصوم بچوں کی کھلکھلاہٹ ، خوبصورت چہروں کی دل آویزی ، زلف دراز کا جادو ، آنکھوں کی دلکشی ، غرض شاعری اظہار بیان کے جتنے وسیلے ڈھونڈتی ہے ۔ وہ شاذ کی شاعری میں موجود ہے ۔ شاذ کا طرز بیان ، ان کی زبان ، نادر تشبیہیں ، پیرایہ اظہار ، چست اور انوکھی تراکیب ، استعارے مثالی ہیں ۔ انہوں نے بطور مثال شاذ کے کئی شعر پیش کیے اور ثابت کیا کہ شاذ کے پاس سچا تخلیقی حسن ملتا ہے ، جو کسی فنکار کی بقا کا ضامن ہوتا ہے ۔ قبل ازیں محبوب خان اصغر معتمد عمومی مرزا غالب اکیڈیمی نے شاذ کا سوانحی خاکہ پیش کیا ۔ بعد ازاں آغا سروش کی صدارت میں محفل شعر میں مصحف اقبال توصیفی ، رحمت یوسف زئی ، محبوب خاں اصغر ، سیف نظامی ، ظفر فاروقی ، شکیل ظہیر آبادی ، ممتاز لکھنوی ، اسریٰ منظور ، تجمل گلریز ، فرحان عزیز اور ریاست علی اسرار نے اپنا کلام پیش کیا ۔ اجلاس و مشاعرہ کی کارروائی محبوب خاں اصغر نے چلائی اور ان ہی کے اظہار تشکر کے ساتھ اختتام عمل میں آیا ۔۔