تل ثمر (شام) ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) شام میں کئی برسوں سے جاری خانہ جنگی میں شمالی شام میں ترک فوجی آپریشن کے باعث اب ایک نیا موڑ دیکھنے میں آیا ہے۔ شامی کردوں نے دمشق میں اسی اسد حکومت کے ساتھ ایک ڈیل کا اعلان کر دیا ہے، جس کے خلاف وہ برسوں سے لڑ رہے تھے۔شمالی شام میں ترک سرحد کے قریب ہی واقع القامشلی کے کثیر النسلی شہر سے پیر 14 اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ انقرہ کی مسلح افواج نے ترک شامی سرحد کے قریب گزشتہ ہفتے سے شامی کرد ملیشیا گروپوں کے خلاف اپنا جو آپریشن شروع کر رکھا ہے، اس کی بین الاقوامی سطح پر شدید مخالفت تو کی جا رہی ہے لیکن اب اسی پیش رفت کی وجہ سے جنگ زدہ شام میں ایک ایسا نیا موڑ بھی دیکھنے میں آیا ہے، جو زمینی حقائق کو بدل کر رکھ دے گا۔شامی کردوں کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ ان کردوں کا اب دمشق میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ ہو گیا ہے، جس کے تحت اس کرد علاقے میں دمشق حکومت ترکی کے ساتھ ملکی سرحد کے قریب اپنے مسلح دستے تعینات کر دے گی۔شمال مشرقی شام میں کرد ملیشیا گروپوں کا اتحاد ڈیموکریٹک فورسز یا ایس ڈی ایف کہلاتا ہے، جس کی قیادت کرد ملیشیا وائی پی جی کر رہی ہے۔یہ وائی پی جی وہی ملیشیا ہے، جس کے جنگجوؤں پر ترکی کا الزام یہ ہے کہ وہ انقرہ حکومت کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی علیحدگی پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) ہی کا مسلح بازو ہے۔ کردستان ورکرز پارٹی کو کئی دیگر ممالک نے بھی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔واضح رہیکہ شمالی شام میں ترک افواج کو ایس ڈی ایف کے فائٹرز کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور اسی پس منظر میں ان کرد ملیشیا گروپوں نے اب دمشق حکومت کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بارے میں مختلف نیوز ایجنسیوں نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ شمالی شام میں ترک فوجی آپریشن اتنا اہم اور شامی کردوں کے لیے اتنا نقصان دہ ہے کہ اب انہوں نے ترک دستوں کی مخالفت میں دمشق کا اتحادی بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ شامی کردوں کی عسکری قیادت کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ ترک دستوں کی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی حکومتی دستوں کو اپنا اتحادی بنانے کی کوشش کرے اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو بھی گئی۔شمال مشرقی شام کے وہ علاقے جہاں لڑائی جاری ہے، وہ کردوں ہی کے انتظام میں تھے یا اب تک ہیں۔ ان علاقوں کی شامی کرد انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ”(ترک دستوں کی طرف سے) جارحیت کو روکنے کے لیے شامی حکومت کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دمشق حکومت ترکی کے ساتھ سرحد کے قریب اپنے فوجی دستے تعینات کر سکتی ہے، جو سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کی مدد کریں گے۔‘‘شامی کردوں کے ساتھ اس ڈیل کے بعد شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ دمشق حکومت اس لیے اپنے فوجی دستوں کو شمال کے سرحدی علاقے میں بھیج رہی ہے کہ وہ وہاں ‘ترک جارحیت کا مقابلہ‘ کر سکیں۔دریں اثناء امریکہ کی حکومت نے ترک فورسز کی جانب سے شام میں کردوں پر حملوں کے بعد انقرہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔امریکی وزارت دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی حملہ روکنے کے لیے امریکی فوج کی شام میں تعیناتی آپشن نہیں ہے۔ جب کہ صدر ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کو اتوار کو کہا ہے کہ شمالی شام سے امریکی فوجیوں کا انخلا شروع کیا جائے۔ ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکہ کی جانب سے ترکی پر رواں ہفتے اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ترکی پر عائد کی جانے والی پابندیاں تمام تر سرکاری سطح پر ہوں گی۔صدر ٹرمپ کا اتوار کو کہنا تھا کہ انہوں نے کانگریس کو سنا ہے جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے وابستہ ارکان ترکی پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ کے بقول، “امریکی محکمہ خزانہ ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جب کہ ترکی نے کہا ہے کہ فوری طور پر ایسا نہ کیا جائے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
