دمشق : شام کے مجسمہ ساز خالد دعوہ نے شام میں ہزاروں لوگوں کی جبری گمشدگی کی مذمت کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر اپنے ایک فن پارے کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ گمشدہ لوگوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ،گمشدہ شامیوں کے رشتے داروں نے آریوں اور ہتھوڑوں سے لکڑی پلاسٹر اور فوم سے بنے مجسمے کو توڑنے میں آرٹسٹ کی مدد کی۔ 39 سالہ مجسمہ ساز نے جو شام سے جلا وطنی اختیار کرنے کے بعد فرانس میں مقیم ہیں ، ایایف پی کو بتایا کہ ہم یہاں سسٹم کے خلاف احتجاج کیلئے اور یہ کہنے کیلئے آئے ہیں کہ بس اب بہت ہو گئی۔ ہمیں سچ جاننے کا حق حاصل ہے۔ ایک حکمراں کے طاقتور جسم والا خالد دعوہ کا بنایا ہوا ساڑھے گیارہ فٹ بلند مجسمہ’’ دی کنگ اف ہولز‘ استبدادی طاقت کیخلاف فنکار کی مذمت کا عکاس تھا۔ احتجاج کا یہ خیال انسانی حقوق کے گروپ ’سیریا کیمپین‘ نے پیش کیا تھا جس نے یہ تجویز دی تھی کہ خالد اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر ز کے باہر نصب مجسمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرد یں۔ خالد نے یہ مجسمہ 2021 میں اس ارادے سے تخلیق کیا تھا کہ وہ اسے بعد میں تباہ کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مجسمہ ہے جسے برقرار رکھنا مشکل ہے۔