شام اور ایران پر ٹرمپ کے موقف سے نیتن یاہو ناراض؟

   

واشنگٹن: اگرچہ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو بڑی سطح پر حمایت حاصل ہے، مگر ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے موقف سے کچھ ناراضی اور تشویش محسوس کر رہے ہیں۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق، نیتن یاہو نے خفیہ طور پر اپنے معاونین سے مشرق وسطیٰ سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے عملے کو بتایا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ … شام اور ایران کے حوالے سے دو طرفہ ملاقاتوں میں درست باتیں کرتے ہیں، مگر ان کے عملی اقدامات ان باتوں سے میل نہیں کھاتے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے بتائی۔نیتن یاہو کو یہ تشویش بھی ہے کہ ٹرمپ، ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی شام میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں، حالاں کہ اسی دوران وہ اسرائیل کو شام میں اپنی مرضی سے کارروائیاں کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں۔ گذشتہ ماہ 7 اپریل کو واشنگٹن میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی ایک ہنگامی ملاقات ہوئی، جس میں صدر ٹرمپ نے اردغان کی تعریف کی، جبکہ نیتن یاہو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ان کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے رہے۔اسی ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ دوبارہ نیوکلیئر مذاکرات کے آغاز پر بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کئی بار یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ شام میں ترکی کی توسیع یا وہاں ترک فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اسی طرح نیتن یاہو بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو اپنے نیوکلیئر پروگرام کو وسعت دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وہ ممکنہ فوجی حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔اس سے قبل امریکی ذرائع یہ اطلاع دے چکے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو ایران کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔ ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے آغاز کی اطلاع نیتن یاہو کو صرف 24 گھنٹے پہلے دی، جس سے وہ حیران رہ گئے۔