دمشق۔5 جون (سیاست ڈاٹ کام) شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالے گروپ سیرین آبرزویٹری کی رپورٹ کے مطابق حماہ شہر کے نواحی علاقیمیں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 9 جنگجو ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار جنگجوئوں کا تعلق شام اور پانچ کا دوسرے ملکوں سے بتایا جاتا ہے۔المرصد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی بم باری سے ہلاک ہونے والوں میں چار شامی جنگجو شامل ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ شامی فوجی ہیں یا سول جنگجو ہیں۔ ہلاک ہونے والے پانچ جنگجوئوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ذرائع نے کہا ہیکہ بمباری کے نتیجے میں متعدد جنگجو زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے تجزیہ نگار رامی عبدالرحمان نے کہا کہ حماہ کے مغرب میں اسرائیلی بمبار طیاروں نے ایک ڈیفنس فیکٹری اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ایک سائنسی مرکز کو نشانہ بنایا۔ بمباری کا نشانہ بنائے جانیوالے مراکز شامی فوج کے زیرانتظام ہیں۔علاوہ ازیں شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق حما میں ایک غیرملکی فضائی حملے کو پسپا کردیا گیا۔ سانا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طیاروں کی مدد سے متعدد سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ شامی فوج نے اس حملے کو روکنے کے لیے بھرپور جواب دیا ہے تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔اسرائیلی حملے میں شام میں ایک سائنسی تحقیقی مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ایران شام میں قائم ان سائنسی مراکز میں میزایل اور دیگر اسلحہ تیار کررہا ہے۔