پیرس ۔ 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) فرانس نے شمال مشرقی شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کی فوجی کارروئی کے سنگین نتائج پر خبر دار کرتے ہوئے انقرہ سے آپریشن فورا روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں ایف لی ڈریان نے جمعرات کے روز ترکی کے شمال مشرقی شام میں فوجی کارروائی کوخطرناک قرار دیا۔انہوں نے شام میں ترکی کی مداخلت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر بین الاقوامی اتحاد کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔اپنے دورہ عراق کے دوران بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کے فرانسیسی وزیر خارجہ نے شام اور عراق میں داعش کے دوبارہ وجود میں آنے کے خطرے سے خبردار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم عراق اور اس کی سرحدوں کی سلامتی کو داعش سے محفوظ رکھنے کے خواہاں ہیں۔اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ الحکیم نے کہا کہ بغداد شام میں ترکی کی مداخلت اور داعشی عناصر کی عراق میں دراندازی پرنظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اور شام میں داعشی قیدیوں کی بڑی تعداد ہے جو 72 ممالک سے تعلق رکھتی ہے۔بتاتے چلیں کہ ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں نے شمالی شام میں کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے خلاف حملے کا آغاز رواں ماہ 9 اکتوبر کو کیا تھا۔ شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق شمال مشرقی شام میں حملے کے بعد سے اب تک 3 لاکھ سے زیادہ شہری اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ المرصد کا کہنا ہے کہ ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا گروپوں کی پیش قدمی جاری ہے اور انہوں نے راس العین شہر کے آدھے حصے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔المرصدر کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے جمعرات کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر افراد الحسکہ صوبے سے راہ فرار اختیار کر چکے ہیں جہاں سرحدی علاقوں میں فریقین کے درمیان معرکہ آرائی جاری ہے۔ اس کے علاوہ شمالی شام میں صوبہ حلب اور صوبہ الرقہ کے علاقوں میں بھی گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔رامی کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فرسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف شدید جھڑپوں کے بعد ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپوں نے جمعرات کو علی الصبح راس العین کے تقریبا آدھے حصے کا کنٹرول سنبھال لیا۔المرصد کا کہنا ہے کہ الحسکہ صوبے میں 40 اسکول بے گھر افراد کی پناہ کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں جب کہ بہت سے لوگوں نے اپنے رشتے داروں کے گھروں میں سر چھپایا اور دیگر لوگ کھلے آسمان کے نیچے مقیم ہیں۔
