شام میں تشدد کا بدترین واقعہ، درجنوں افراد ہلاک

   

دمشق : لاذقیہ میں سکیورٹی فورسز اور اسد کے حامی بندوق برداروں کے درمیان لڑائی میں تقریباً 70 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکومتی فورسز اور شمال مغرب کے ساحلی علاقے میں اسد کے باقی ماندہ حامیوں کے درمیان اب بھی شدید لڑائی چلتی رہتی ہے۔صوبے لاذقیہ میں یہ جھڑپیں روس کے زیر کنٹرول ایئربیس کے قریب ہوئی ہیں، جہاں جمعہ کی صبح تک کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا۔سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس (ایس او ایچ آر) نے جمعرات کے روز بتایا کہ شام کے صوبے لاذقیہ میں شامی سکیورٹی فورسز اور سابق صدر بشار الاسد کے حامی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ادارے نے سوشل میڈ?ا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، “شام کے ساحل پر معزول حکومت کے جنگجوؤں اور وزارت دفاع نیز داخلہ کے ارکان کے درمیان خونریز جھڑپوں اور گھات لگا کر حملوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ درجنوں کو پکڑا بھی گ?ا ہے۔” اطلاعات کے مطابق معزول صدر بشار الاسد کی حامی فورسز نے گھات لگا کر ایک پولیس ٹیم پر حملہ کیا اور 16 پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد شامی سکیورٹی فورسز کی طرف سے جوابی کارروائی کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں، جس میں اسد کے حامی بہت سے جنگجوؤں اور چار شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔مانیٹرنگ باڈی ایس او ایچ آر نے ان جھڑپوں کو “بشار الاسد کے خاتمے کے بعد سے نئی حکومت کے خلاف سب سے پرتشدد حملہ” قرار دیا ہے۔صوبے لاذقیہ میں یہ جھڑپیں روس کے زیر کنٹرول ایئربیس کے قریب ہوئی ہیں، جہاں جمعہ کی صبح تک کرفیو کا اعلان کیا گیا تھا۔گزشتہ دسمبر میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ شام کی اسلام پسند حکومت سے منسلک فورسز پر سب سے طاقتور حملہ بتایا جاتا ہے۔