کانفرنس میں 600سے زائد مہمانوں کی شرکت ، شام کی تعمیر نو سب کی ذمہ دار : احمد شرع
دمشق : شامی دارالحکومت دمشق میں منعقد ہونے والی قومی مذاکرات کانفرنس کا آغاز 600 سے زائد مہمانوں کی شرکت سے ہوا۔قصر عامہ میں شامی قومی مذآکرات کانفرنس کی افتتاحی تقریر کرتے ہوئے صدر احمد شرع نے کہا کہ شام کو مصائب اور پریشانیاں در پیش ہیں، ملک کو اتحاد کے ساتھ ٹھیک ہونا چاہئے،ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شام کے زخموں کو بھرنے اور اس کی مدد کیلئے متحد ہو کر کام کریں۔یہ یاد دلاتے ہوئے کہ شامی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ اپنی وفاداری اور ذمہ داری کو پورا کریں، شرع نے کہا کہ شام آپ پر بھروسہ کر رہا ہے مجھے یقین ہے کہ آپ اسے دوبارہ مایوس نہیں کریں گے، آپ اسے نظر انداز نہیں کریں گیاور یہ کہ آپ اس کی حفاظت اور تعمیر کی کوشش میں ہاتھ بٹائیں گے۔وزیر خارجہ اسد حسن شیبانی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں شام کو معزول حکومت کی طرف سے پیدا کردہ ایک منظم جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے، البتہ آزادی کے بعد ہم نے دباؤ کے آگے سر نہیں جھکایا اور ہم نے واضح انداز میں موثر سفارت کاری پر کام کیا۔شیبانی نے کہا کہ وہ شام کے خلاف پابندیاں اٹھانے اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھولنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی خودمختاری اور شناخت پر کسی بھی قسم کی مداخلت کو قبول نہیں کریں گے، اور ہم ان جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں جو ہمارے ساتھ کھڑی ہیں، جبکہ ان لوگوں کے لئے کھلے رہیں گے جو ہمارے لوگوں کی مرضی کا احترام کرتے ہیں۔نئی انتظامیہ کی جانب سے 12 فروری کو قائم کی گئی ابتدائی کمیٹی نے ترکیہ اور بیرون ملک سے 600 سے زائد افراد کو قومی مکالمہ کانفرنس میں شرکت کے لیے دعوت نامے بھیجے تھے۔کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ شرکاء کا انتخاب ملک کے تمام طبقوں سے کیا گیا ہے۔ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے اہم سمجھی جانے والی اس کانفرنس میں عبوری دور میں انصاف، نئے آئین، اداروں کی تعمیر نو یا اصلاحات، ذاتی آزادی، غیر سرکاری تنظیموں کی اہمیت اور معیشت کے موضوعات پر دن بھر 6 ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔کانفرنس سے قبل کمیٹی نے ملک کے مختلف صوبوں میں 30 سے زائد اجلاس منعقد کیے۔ان اجلاسوں میں چار ہزار سے زائد افراد کی شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کمیٹی نے پہلے 16 فروری کو حمص میں ایک اجلاس منعقد کیا ۔