لندن:کیمیائی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ادارے کے مطابق شامی فضائیہ نے کلورین سے بھرا ایک بیارل بم باغیوں کے قبضے والے علاقے سراقب میں گرایا تھا۔کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے ادارے آرگنائزیشن فار دی پروڈکشن آف کیمیکل ویپن(او پی سی ڈبلیو) نے 12 اپریل پیر کے روز جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس بات پریقین کرنے کی معقول وجوہات ہیں کہ شامی فضائیہ کے ایک ہیلی کاپٹر نے فروری 2018 میں شمال مغربی شہر سراقب پر کلورین کا ایک سلنڈر گرایا تھا۔شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے باغی جنگجوؤں کے ساتھ خونریز معرکہ آرائی میں مصروف ہے تاہم وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے مسلسل انکار کرتی رہی ہے۔او پی سی ڈبلیو نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا، سن 2018 میں ہونے والے حملے کے ایک برس کی تفتیش کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ شامی فوج نے ہی اپنے شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ او پی سی ڈبلیو کے شراکت دار آئندہ کی کانفرنس میں اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کریں گے۔