ریاض: سعودی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان حملوں میں شام کے پانچ مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور درجنوں شہری اور فوجی زخمی ہوگئے۔مملکت نے قابض اسرائیلی حکام کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ذریعے شام اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ سعودی عرب نے عالمی برادری خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پر بھی زور دیا کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں اور شام اور خطے میں اسرائیل کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی احتسابی میکانزم کو فعال کریں۔سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے والے سعودی موقف کی تجدید اس وقت ہوئی جب بدھ کی رات اسرائیلی طیاروں نے شام میں حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ خاص طور پر شمالی دمشق میں ایک سائنسی تحقیقی مرکز اور ملک کے وسط میں حمآ شہر کو نشانہ بنایا۔ ایک اسرائیلی فضائی حملے نے دارالحکومت دمشق کے برزہ محلے میں سائنسی تحقیق کی عمارت کے آس پاس کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا۔شامی ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ حمآ کے قرب و جوار کو نشانہ بناتے ہوئے اسرائیلی فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ بدلے میں اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے دمشق میں شامی فوجی اڈوں اور دیگر فوجی ڈھانچوں پر حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے کہا ہے کہ فوج نے حمآ اور حمص میں T4 اڈوں میں موجود فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ہم اسرائیل کو کسی بھی خطرے کو دور کرنے کیلئے کام جاری رکھیں گے۔