شام کے مسئلہ پر ٹرمپ اور پیلوسی کے درمیان لفظی جھڑپ

   

واشنگٹن۔17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی اندرون ملک سیاست پست ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے درمیان شام میں تعینات امریکی فوجیوں کے تخلیہ کے سلسلہ میں زبانی تکرار ہوئی۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے ترکی کو سرحد پار فوجی کارروائی کرنے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ جبکہ کرد افواج امریکہ کی حلیف ہیں۔ چہارشنبہ کے دن دونوں قائدین کے درمیان زبانی تکرار کا آغاز ہوا جبکہ وائٹ ہائوز کو قیادت کی دعودی دی گئی تھی اور اعلی سطح پر اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی صدر امریکہ کا ساتھ دیں گے۔ ریپبلکن پارٹی کے ارکان پہلے ہی سے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی تائید میں ہیں۔ا مریکی کانگریس کا خیال ہے کہ شام کے بارے میں ان کی پالیسی درست ہے۔ وائٹ ہائوز میں اجلاس سے باہر آتے ہوئے دونوں قائدین نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا کہ امریکہ کی فوج آہستہ آہستہ بیرون ملک تعیناتی سے وطن واپس طلب کی جارہی ہے۔ چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے 79 سالہ کہنہ مشق ڈیموکریٹک پارٹی کی سیاستداں کو ’’بیمار شخص‘‘ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ نینسی پیلوسی کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کچھ نہ کچھ خرابی موجود ہے یا پھر راست الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے عظیم ملک کو پسند نہیں کرتیں۔ ایک اور ٹوئٹ میں ٹرمپ نے وائٹ ہائوز کی تصویر شائع کی جس میں وہ اپنے ملاقات کے کمرے میں سرمایہ دار نینسی کے اخراج کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پیلوسی نے فوری طور پر ٹوئٹر پر اپنی شخصیت کے بارے میں تفصیلات تحریر کیں۔ پیلوسی نے فوری طورپر اپنی تصویر بھی شخصی تفصیلات کے ساتھ ٹوئٹر پر شائع کردی۔