شان اقدس ﷺ میں گستاخی پر بلڈوزر کارروائی ضروری

   


معطلی ناکافی ، سزا اور کروڑوں روپئے جرمانہ کیا جائے : مولانا جعفر پاشاہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ اگست : ( پریس نوٹ) : امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے ملعون کی جانب سے شان اقدسﷺ میں گستاخی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ شان اقدس ﷺ میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف بلڈوزر کارروائی کی جائے ‘ ۔ ان کے مکانات مسمار کردئیے جائیں ، ان پر کروڑوں روپئے جرمانہ عائد کیا جائے اور توہین مذہب و مقدس شخصیات کے خلاف نازیبا ریمارکس پر ہندوستانی قانون کے مطابق جو سزا مقرر کی گئی ہے وہ سزا دی جائے ۔ مولانا جعفر پاشاہ نے کہا کہ بی جے پی نے رکن اسمبلی کو اگرچیکہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک پارٹی سے معطل کیا ہے ۔ لیکن یہ ناکافی اقدام ہے ۔ مولانا نے یاد دلایا کہ بی جے پی کی سابق خاتون ترجمان نے بھی جب ایک ٹی وی مباحثہ کے دوران حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخی کی تھی تب ہندوستان بھر میں شدید غم و غصہ کی لہر اور بعض عرب ممالک کے بھی احتجاج کو دیکھتے ہوئے اس خاتون کو بی جے پی سے باہر کردیا گیا ۔ اس کے خلاف بھی ملک بھر کے کئی پولیس اسٹیشنوں میں مقدمات درج بھی کئے گئے لیکن اس کو ابھی تک بھی جیل کی سلاخوں سے آزاد رکھا گیا ہے اور نہ ہی اس کو قانون کے مطابق سزا دی گئی ہے ۔ اب جب کہ رکن اسمبلی نے بھی اسی طرح کی بدترین و خبیث حرکت کی ہے اس کی گرفتاری اور پارٹی سے معطلی کافی نہیں ہے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس طرح کی آئندہ ایسی حرکت نہ ہونے دینے کے لیے اس وقت جس نے ایسی ذلیل حرکت کی ہے اس کے گھر کو مکمل مسمار کردیا جائے تاکہ یہ مثال بنے اور پھر سے کوئی بھی شان اقدس میں گستاخی کی حرکت و حماقت نہ کرے ۔ مولانا جعفر پاشاہ نے مزید کہا کہ شان اقدس ﷺ میں گستاخی پر مسلم نوجوانوں نے جو مکمل اور پرامن مظاہرے کئے وہ پولیس کے لیے بھی مثال ہیں ۔ مسلم نوجوان ہمیشہ سے ہی پرامن احتجاج کرتے ہیں لیکن پولیس محکمہ میں موجود بعض زعفرانی ذہنیت کے حامل پولیس اہلکار غیر ضروری طور پر مسلم نوجوانوں کو عمداً مشتعل کر کے حالات کو بگاڑنے کا سبب بنتے ہیں ۔۔