راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ، مولانا اکبر نظام الدین و دیگر کا بیان
حیدرآباد۔24۔اگسٹ(سیاست نیوز) شان رسالتؐ میں گستاخی مسلمانوںکے لئے ناقابل برداشت ہے اور کسی بھی صورت میں شان اقدس میں زرہ برابر کی توہین برداشت نہیں کی جاسکتی لیکن رکن اسمبلی گوشہ محل راجہ سنگھ مسلسل مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے اور انہیں مجرو ح کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ریاستی حکومت اور پولیس انتظامیہ کو اس بدبخت کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے مسلمانوں میں پھیل رہی بے چینی کو دور کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے ۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین درگاہ حضرت سید شاہ خاموش ؒ و امیر جامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے راجہ سنگھ کے بدبختانہ اور بے ہودہ بیان پر شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مذموم حرکات کے ذریعہ مسلمانو ںکے جذبات کو مجروح کرنے کی کوششیں ملک میں مخصوص نظریہ کی نمائندگی کرتی ہیں جو ملک کی سالمیت کے لئے خطرہ ہے۔ انہو ںنے شان رسالتؐ میں گستاخی کا ارتکاب کرنے والے راجہ سنگھ کی فی الفور گرفتاری اور اسے سخت سزاء دلوانے کے اقدامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر گذشتہ یوم راجہ سنگھ کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی کے دوران پولیس سے کوئی چوک ہوئی تھی تو پولیس اس کا ازالہ کرسکتی ہے لیکن اگر منصوبہ بند انداز میںاس کی رہائی کی راہ ہموار کی گئی ہے تو ایسی صورت میں حکومت اور پولیس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے کہا کہ شان رسالتﷺ میں گستاخیوں پر اب خاموش نہیں رہا جاسکتا کیونکہ مسلسل اس طرح کی حرکات مسلمانوں میں غم و غصہ میں اضافہ کا سبب بنتی جا رہی ہیں۔انہو ںنے احتجاج میں شامل نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی طرح کی شرانگیزی کا شکار ہونے کے بجائے پر امن و جمہوری انداز میں احتجاج جاری رکھیں ۔ امیر جامعہ ‘ جامعہ نظامیہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ راجہ سنگھ کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے ان کی اسمبلی کی رکنیت کو برخواست کرنے کے اقدامات کرے کیونکہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنا اور مخصوص طبقہ اور مذہبی شخصیات کے خلاف بیان بازی قانون ساز ادارہ کے رکن کو زیب نہیں دیتی اور اس طرح کی حرکات سے نہ صرف مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ قانون ساز اداروں کی بھی توہین ہوتی ہے ۔ انہوں نے گستاخ راجہ سنگھ کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کاروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں حالات کے بگڑنے کے خدشات پیدا ہونے لگے ہیں۔م