سخت کارروائی کا مطالبہ ، طاقت کے استعمال کے باوجود مظاہرے جاری ، پولیس بے بس
حیدرآباد۔24۔اگسٹ(سیاست نیوز) شان رسالتؐ میں کی گئی گستاخی کے خلاف شہر حیدرآباد کی سڑکوں پر گذشتہ شب بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور ملی و مذہبی قائدین کی جانب سے نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے اور مشترکہ فیصلہ کا انتظار کرنے کی اپیلیں رائیگاں ثابت ہوئیں اس کے بعد پولیس نے ان نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا لیکن وہ بھی بے اثر رہا کیونکہ پولیس ‘ ٹاسک فورس اور ریاپڈ ایکشن فورس کی جانب سے کئے گئے لاٹھی چارج کے دوران نوجوانوں نے گروپ کی شکل میں آگے بڑھتے ہوئے خود کو پولیس کے آگے پیش کردیا اور کہا کہ اگر مارنا ہے تو انہیں مار دیا جائے لیکن وہ ناموس رسالت ؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنے احتجاج کو ختم کرنے کے لئے آمادہ ہیں۔پولیس نے طاقت کے استعمال کے باوجود نوجوانوں کے احتجاج کو جاری رہتا دیکھ بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے خاموش ہوگئی کیونکہ نوجوان کسی املاک کو نقصان نہیں پہنچا رہے تھے اور نہ ہی پرتشدد احتجاج کر رہے تھے جسے مزید طاقت کے استعمال کے ذریعہ ختم کروایا جائے۔ نوجوانوں نے رات بھر احتجاج جاری رکھا اور صبح پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کی بڑی تعداد کو حراست میں لیتے ہوئے مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کردیا ۔ چہارشنبہ کی شب راجہ سنگھ کو ضمانت دیئے جانے کے بعد احتجاج میں پیدا ہوئی شدت رات بھر جاری رہی اور محکمہ پولیس کے عہدیداروں نے پرانے شہر میں رات بھر قیام کرتے ہوئے احتجاجی نوجوانوں کو منتشرکرنے کی کوشش کرتے رہے اور اس مقصد کے لئے محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے مختلف حربوں کو استعمال کیا لیکن اس کے باوجود نوجوانوں نے اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے گستاخ رسولﷺ کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ جاری رکھا۔پرانے شہر کے مختلف محلہ جات سے نکالے گئے احتجاجی جلوس رات دیر گئے شاہ علی بنڈہ چوارہے پر جمع ہوگئے اور راستہ پر بیٹھ کر احتجاج کرنے لگے ۔عنبرپیٹ‘ حسینی علم‘ جہاں نما‘ مغلپورہ کے علاوہ سٹی کالج کے قریب نوجوانوں کے احتجاجی جلوس کو آگے بڑھنے سے روک دیئے جانے کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے شاہ علی بنڈہ چوراہے کو احتجاج کے مرکز میں تبدیل کردیا اور وہاں جمع ہوتے ہوئے راجہ سنگھ کے خلاف نعرۂ بازی کرنے لگے ۔ نوجوانوں کے احتجاج کے دوران رکن اسمبلی ملک پیٹ جناب احمد بن عبداللہ بلعلہ شاہ علی بنڈہ چوارہے پر پہنچے اور احتجاجی نوجوانوں سے ملاقات کرتے ہوئے بات چیت کی اور انہیں پر امن احتجاج کی تلقین کی ۔ رکن اسمبلی کی واپسی کے بعد پولیس نے مختلف نام نہاد شخصیات کی ویڈیوس تیار کرواتے ہوئے انہیں گشت کروایا جس میں احتجاجی نوجوانوں کو منتشر ہونے کی اپیل کی گئی تھی لیکن نوجوانوں نے احتجاج کو روکنے اور منتشر ہونے کی اپیل کرنے والوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھروں میں بیٹھ کر اپیل جاری کرنے کے بجائے سڑک پر آئیں اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لئے ڈٹ جائیں ۔ شاہ علی بنڈہ چوراہے پر نوجوانوں کے احتجاج کے جاری رہنے اور بازار بند رکھے جانے کے علاوہ اطراف و اکناف موجود تعلیمی اداروں کو تعطیل دے دی گئی ۔ پولیس نے صبح ٹریفک میں خلل پیدا کرنے اور مصروف سڑک پر احتجاج کے سبب پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دیکھتے ہوئے نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ جناب سید سہیل قادری محمود کارپوریٹر پتھر گٹی نے نوجوانوں کو حراست میں لینے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج میں شامل ہوگئے جس پر پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا اور کنچن باغ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ کارپوریٹر پتھر گٹی نے بتایا کہ ان کے ہمراہ 30 سے زائد نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا اور انہیں زائد از 4گھنٹے حراست میں رکھاگیا۔رات بھر جاری رہے نوجوانوں کے احتجاج کے دوران راجہ سنگھ کے پتلے نذرآتش کرتے ہوئے اس کی تصویر پر چپلوں کے ہار ڈالے گئے ۔ م