شاپنگ مالس اور تجارتی اداروں میں چہل پہل میں کمی

   

آئندہ ہفتہ مزید گراوٹ کا امکان، کوروناوائرس میں اضافہ کا منفی اثر

حیدرآباد۔7 جنوری (سیاست نیوز) ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے اثرات شاپنگ مالس میں نظر آنے لگے ہیں اور شاپنگ مالس میں موجود تجارتی اداروں کے مالکین کا کہناہے کہ گذشتہ 3-4 یوم کے دوران 25 فیصد تک چہل پہل میں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور گاہکوں میں ریکارڈ کی جانے والی کمی کو دیکھتے ہوئے شاپنگ مالس میں موجود تجارتی اداروں کے مالکین تجارتی سرگرمیوں میں گراوٹ کی پیش قیاسی کرنے لگے ہیں ۔تجارتی اداروں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ شاپنگ مالس میں خدمات انجام دینے والے عملہ میں 95 فیصد سے زیادہ عملہ ٹیکہ حاصل کیا ہوا ہے لیکن ٹیکہ کے باوجود کورونا وائرس کے خوف کے سبب عوام کی بڑی تعداد شاپنگ مالس کا رخ کرنا بند کرچکی ہے ۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ممبئی ‘ احمدآباد‘دہلی ‘ کولکتہ کے علاوہ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی 20تا25 فیصد گاہکوں کی آمد و رفت میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ شہری جو شاپنگ مالس میں تفریح ‘ وقت گذاری اور تجارتی اغراض سے آیا کرتے تھے ان کی دلچسپی کم ہونے لگی ہے۔ کئی ریاستوں میں رات کے کرفیو‘ تحدیدات اور دیگر امور کے سبب شہریوں میں خوف پایا جانے لگا ہے اور وہ ٹیکہ اندازی کے باوجود بھی گہما گہمی والے علاقوں سے دور رہنے میں اپنی عافیت تصور کر رہے ہیں۔شاپنگ مالس کے انتظامیہ کا کہناہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں حالات سازگار ہونے کی توقع ہے لیکن جاریہ ماہ کے اواخر کے علاوہ تلسنکرانت کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے پر تاجرین میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔ جاریہ سال کے آغاز اور جنوری کے پہلے ہفتہ کی ابتداء پر چہل پہل معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی تاہم ہفتہ کے اختتام تک اچانک گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ ہفتہ مزید گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔