حیدرآباد۔ ریاست تلنگانہ میں شادی بیاہ کی تقاریب اور شاپنگ مالس کورونا وائرس ہاٹ اسپاٹ میں تبدیل ہونے لگے ہیں اور تلنگانہ کے کئی شہری اضلاع میں جہاں شاپنگ مال کلچر ہے ان مقامات پر شاپنگ مالس میں خریدی کرنے والوں کو کورونا وائرس کی توثیق نے شاپنگ مالس کے ذمہ داروں اور انتظامیہ کے علاوہ ضلع انتظامیہ میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی حکومت سے مشاورت کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے شاپنگ مالس کے متعلق فیصلہ پر غور کیا جا رہاہے کیونکہ گذشتہ یوم نظام آباد میں شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والے 86افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی توثیق کے بعد اب نظام آباد میں شاپنگ مال جانے والے 79 افراد کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی خبر نے صورتحال کو مزید سنگین کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ شاپنگ مالس میں جہاں بند ماحول کے علاوہ مسلسل ائیر کنڈیشن چلتا رہتا ہے اسی لئے تیزی کے ساتھ شہریوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ ضلع نظام آباد میں کورونا وائرس کی دہشت نے ضلع انتظامیہ کو چوکس کردیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ریاستی وزراء کی جانب سے ضلع نظام آباد کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ شادی بیاہ کی تقاریب میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی اطلاع کے بعد آئندہ چند ہفتوں کے دوران شادی کے مہورتوں کا جائزہ لینے پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر سے غیر مسلم شادیوں کے مہورت کا آغاز ہونے جا رہا ہے جو کہ مکمل مئی کے دوران جاری رہنے والے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد اور نظام آباد میں شادی کی تقاریب میں شرکت کرنے والوں کو کورونا وائرس کی توثیق کے بعد ریاستی حکومت کو شادی بیاہ کی تقاریب کے سلسلہ میں سفارشات روانہ کردی گئی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر سے شروع ہونے والے غیر مسلم شادی کی تقاریب کے مہورت کا سلسلہ جو کہ ماہ مئی کے دوران بھی جاری رہنے والا ہے اسی لئے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مختلف اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے جن اضلاع میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ان میں بیشتر شہری اضلاع ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضو ںکی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہاہے۔