ضلع کلکٹرس کو جوابدہ بنانے اور 50 ملازمین کے تقررات کی سفارش
حیدرآباد: ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم آئی پی ایس نے آج چیف اگزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر حکومت نے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر محمد قاسم کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ سے سبکدوش کرتے ہوئے شاہنواز قاسم کو مکمل اختیارات کے ساتھ زائد ذمہ داری دی ہے ۔ شاہنواز قاسم سابق میں اس عہدہ پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ حیدرآباد اور رنگا ریڈی میں قبرستانوں کے تحفظ میں ناکامی سے متعلق مقدمہ کے دوران ہائی کورٹ نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر فرائض سے غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی حکومت کو ہدایت دی تھی ۔ اس مقدمہ کی سماعت 17 ڈسمبر کو مقرر ہے۔ حکومت نے آئی پی ایس عہدیدار کو مقرر کرتے ہوئے عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شاہنواز قاسم اس ذمہ داری کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر نے وقف کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے ان کے نام کی سفارش کی ۔ شاہنواز قاسم نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے وقف بورڈ کے استحکام کے لئے حکومت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں۔ ہر ضلع میں ضلع کلکٹر ، کمشنر پولیس یا سپرنٹنڈنٹ پولیس کو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے جواب دہ بنانے کے علاوہ انہوں نے وقف بورڈ میں 50 قابل ملازمین اور عہدیداروں کے تقرر کی سفارش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ریونیو کے تعاون کے بغیر وقف بورڈ اپنی جائیدادوں کا تحفظ نہیں کرپائے گا۔ انہوں نے پولیس اور ریونیو اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دینے اور ان کی خدمات وقف بورڈ کے تحت رکھنے کی سفارش کی ہے۔ شاہنواز قاسم کے تقرر پر عام مسلمانوں میں اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ وقف بورڈ کے ملازمین کی رائے مختلف ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں ڈسپلن اور ورک کلچر کے فروخت کے لئے شاہنواز قاسم نے سخت گیر قدم اٹھائے تھے جس کے نتیجہ میں بیشتر اسٹاف ان کے تقرر سے خوفزدہ ہے۔ اسی دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے شاہنواز قاسم کے تقرر کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ سینئر آئی پی ایس عہدیدار کے تقرر سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
