شاہین باغ کے احتجاج سے راہگیروں کو کوئی مسئلہ نہیں

   

مرکز کے اعتراض کے بعد سے ہی احتجاج کھٹکنے لگا ہے ۔ احتجاج میں شامل مختلف افراد کے تاثرات

نئی دہلی 18 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) شاہین باغ میں عام راستہ کو روکے جانے پر سپریم کورٹ کی تشویش اور سی اے اے احتجاج کو کسی دوسرے مقام کو منتقل کرنے کی تجویز کے ایک دن بعد احتجاج میں شامل کئی لوگوں نے یہ ادعا کیا ہے کہ اس سٹ ان احتجاج کی وجہ سے بھاری تعداد میں راہ گیروں کو کوئی تکلیف نہیں ہو رہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے سینئر ایڈوکیل سنجے ہیگڈے کو مصالحت کار کا رول ادا کرنے اور احتجاجیوں کو تلقین کرنے کیلئے کہا تھا کہ وہ اپنے احتجاج کو کسی دوسرے مقام کو منتقل کردیں جہاں عوام کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے ۔ عدالت نے کہا تھا کہ مسٹر ہیگڈے اس کام میں ایڈوکیٹ سادھنا رامچندرن اور سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ کی مدد بھی لے سکتے ہیں تاکہ احتجاجیوں سے بات چیت کی جاسکے ۔ مصالحت کاروں نے شاہین باغ میں راستہ رکنے کے مسئلہ پر پہلے اپنے طور پر تبادلہ خیال آج کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کے حکمنامہ کی نقل کا انتظار ہے اور اس کے بعد ہی وہ شاہین باغ کے احتجاجیوں سے ملاقات کرینگے ۔ شاہین باغ میں کئی احتجاجیوں نے آج کہا کہ شاہین باغ ۔ کالندی کنج راستہ ‘ جہاں گذشتہ دو ماہ سے زیادہ وقت سے احتجاج کیا جا رہا ہے ‘ بہت کم لوگ استعمال کرتے ہیں۔ وہ بھی جامعہ نگر اور اوکھلا سے تعلق رکھنے والے افراد ہی استعمال کرتے ہیں جنہوں نے اس احتجاج کی اجازت دیتے ہوئے دوسرا راستہ اختیار کرنے سے اتفاق بھی کیا ہے ۔ ایک پرنٹنگ پریس کے مالک حفیظ سید نے ‘ جو مسلسل شاہین باغ احتجاج میں شامل
ہوتے ہیں ‘ کہا کہ ڈسمبر میں جب احتجاج شروع ہوا تھا مقامی لوگوں نے پہلے اس مقام کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا تھا

تاہم احتجاج میں شامل خواتین کیلئے جب وہاں شیڈ ڈال دیا گیا تو ساری پٹی کے دوکانداروں نے وہ علاقہ احتجاج کیلئے چھوڑ دینے سے اتفاق کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عملہ بھی کئی بار وہاں آیا اور اس نے بھی احتجاج پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس کا کہنا تھا کہ یہ پرامن احتجاج ہے ۔ ان کا دعوی تھا کہ جب مرکزی حکومت نے یہ الزام عائد کیا کہ اس احتجاج کو کانگریس اور عآپ نے اسپانسر کیا ہے تب ہی سے دہلی پولیس اسے رکاوٹ کہنے لگی ہے ۔ ایک اور احتجاجی شاہیدہ شیخ کا کہنا تھا کہ وہ شاہین باغ میں 30 سال سے مقیم ہیں۔ دہلی اور نوئیڈا کے درمیان سفر کرنے والے نوئیڈا۔ گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے ہی استعمال کرتے ہیں۔ شاہین باغ ۔ کالندی کنج کی روڈ کو صرف شاہین باغ ‘ جامعہ نگر ‘ ابو الفضل انکلیو اور اوکھلہ کے لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری گلیاں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ عدالت سے رجوع ہونے والوں نے کیوں صرف اسی روڈ کا تذکرہ کیا ہے ۔ ایک اور احتجاجی مہہ جبین خان نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آرہا ہے کہ احتجاج منتقل کرنے کا مسئلہ راہ گیروں کیلئے سہولت پہونچانے ہے یا پھر سی اے اے کی تائید کرنے والوں کو خوش کرنے سے متعلق ہے ۔