شاہی مسجد باغ عامہ میں فراش ‘ جاروب کش و چوکیدار تک موجود نہیں

   

محکمہ اقلیتی بہبود کی حد درجہ لا پرواہی ۔ تقرر کیلئے بارہا نمائندگیوں پر بھی عہدیدار بے حس

حیدرآباد۔28۔مئی۔(سیاست نیوز) شاہی مسجد باغ عامہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کا کوئی ملازم نہیں رہا اور اب مسجد کے امور کی انجام دہی کیلئے غیر متعلقہ افراد کی خدمات حاصل کرنی پڑرہی ہیں۔ شاہی مسجد باغ عامہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عملہ کے نام پر محض مہتمم مسجد‘ خطیب و امام مسجد اور مؤذن ہیں جبکہ فراش ‘ جاروب کش اور چوکیدار نہ ہونے سے ان امور کو خانگی افراد کی خدمات حاصل کرکے انجام دینا پڑرہا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی نگرانی میں اس مسجد میںعملہ کے نہ ہونے کے متعلق تمام عہدیدارواقف ہیں لیکن اس کے امور کو بہتر بنانے کوئی پیشرفت حکام کی جانب سے نہیں کی جارہی ہے بلکہ اس مسئلہ کو نظرانداز کرکے یہ باور کروایا جارہا ہے کہ تمام امور تو چل رہے ہیں پھر کس چیز کی کمی ہے۔ مسجد کے احاطہ میں چھوٹے کاروبار کرنے والے مسجد میں جاروب کشی اور فراش کی خدمات انجام دے رہے ہیں اورچوکیدار نہ ہونے کے سبب رات دیر گئے مسجد کے باب الداخلہ کھلے رہتے ہیں ‘ اور کبھی کبھی مسجد کے گیٹ مقفل کئے جاتے ہیں جبکہ مسجد کی نگرانی کو یقینی بنانے و صفائی کیلئے درکار عملہ کا تقرر لازمی ہے ۔ مسجد کے امور کو بہتر بنانے اور جاروب کشی و جائے نمازوں کو بچھانے اور اٹھانے عملہ کی ضرورت کا عہدیداروں کو اندازہ ہونے کے باوجود وہ خاموشی ہیں۔ ڈائرکٹوریٹ برائے محکمہ اقلیتی بہبود سے موصول اطلاعات کے مطابق گذشتہ دو برسوں سے جاروب کش‘ فراش اور بیت الخلاء کی صفائی کیلئے عملہ کیلئے نمائندگیاں مل رہی ہیں لیکن عہدیدار ان نمائندگیوں کو نظرانداز کررہے ہیں حالانکہ متعلقہ رکن اسمبلی اور کارپوریٹر نے متعدد مرتبہ متوجہ کروائی ہے اور ان کی نمائندگیاں بھی بے اثر ثابت ہورہی ہیں۔شاہی مسجد کے نگران عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جار ہاہے کہ جب تک محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکی منظوری نہیں دی جاتی ضلعی یا ریاستی دفتر سے کسی ملازم کا تقرر نہیں کیا جاسکتا حالانکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے ہی دیگر اداروں میں اپنی مرضی کے موافق تقررات معمول کی بات ہیں بلکہ خود ڈائرکٹوریٹ اقلیتی بہبود و ٹمریز کے اداروں میں من مانی تقررات بغیر کسی اعلامیہ کی اجرائی کے اعلیٰ عہدیدوں پر بھی تقررات کئے جاتے رہے ہیں لیکن جب شاہی مسجد میں درکار عملہ کے تقرر کی بات آتی ہے تو قوانین ‘ اصولوں اور رہنمایانہ خطوط کی بات کی جا رہی ہے۔م