شیوسینا کو زیادہ مجبور کیا گیا تو وہ متبادل حلیف تلاش کرلے گی : سنجے راوت
ممبئی ۔ 28 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے پیر کے دن اپنے مطالبے کا اعادہ کیا کہ امیت شاہ اور اُدھو ٹھاکرے کے درمیان متفقہ اقتدار میں مساوی شراکت داری کے فارمولے کی صداقت واضح کی جائے ۔ شیوسینا کے رُکن پارلیمنٹ سنجے راوت کا یہ مطالبہ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس اور سینئر شیوسینا قائد دیواکر راوٹے کی ریاستی گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کے کچھ ہی دیر بعد منظرعام پر آیا ۔ برسراقتدار اتحاد کے شرکاء کے درمیان آئندہ ریاستی حکومت تشکیل دینے کے سلسلے میں تنازعہ کے دوران اس مطالبے کی اہمیت ہے ۔ راج بھون کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ملاقات خیرسگالی تھی ۔ دونوں قائدین جنھوں نے کوشیاری سے علحدہ طورپر ملاقاتیں کی تھیں خیرسگالی تھیں ۔ راوت نے ایک ٹی وی چینل سے کہاکہ راوٹے کی گورنر سے ملاقات کا کوئی سیاسی پہلو نہیں تھا ۔ اگر بی جے پی سے سوال کیا جائے تو کیا ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی نے رام کے نام کو استعمال کیا ہے ۔ آپ رام مندر کب بنائیں گے ؟ رام ستیہ وچانی تھے اس لئے بی جے پی کو اس فارمولے کی صداقت بے نقاب کرنی ہوگی ۔ آپ ایک کاغذ چاک کرسکتے ہیں لیکن آپ ریکارڈ سے حذف نہیں کرسکتے۔ بی جے پی اور شیوسینا کے بیچ میں آخر کیا معاہدہ ہوا ہے ؟ راوت نے پیر کے دن کہاکہ شیوسینا نے مشہور فلم ’’شعلے‘‘ کا مکالمہ مرکز پر تنقید کیلئے مستعار لیا ہے ۔ دیوالی کے موقعہ پر بھی بازاروں میں ’’سناٹا‘‘ چھایا ہوا ہے ۔ شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے حلیف بی جے پی کو انتباہ دیا کہ اگر وہ شیوسینا کو زیادہ مجبور کرے تو وہ متبادل حلیف تلاش کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔