شاہ علی بنڈہ تا فلک نما سڑک کی توسیع طویل عرصہ سے التواء کا شکار

   

ٹریفک جام سے تجارت متاثر ، محکمہ بلدی نظم و نسق ، پولیس اور قائدین سے نمائندگی بے فیض ثابت
حیدرآباد۔5نومبر(سیاست نیوز) شاہ علی بنڈہ سے فلک نما جانے والی سڑک کی کشادگی کو منظوری حاصل ہوئے 12 سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس سڑک کی توسیع کے کاموں کو مختلف وجوہات کی بناء پر زیر التواء رکھا جا رہاہے جس کے سبب سید علی چبوترہ سے علی آباد کی سڑک پر ٹریفک جام روز کا معمول بنا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شاہ علی بنڈہ تا انجن باؤلی براہ سید علی چبوترہ سڑک کی توسیع کو منظوری کے بعد کئی جائیدادوں کے حصول کے اقدامات بھی کئے جا چکے ہیں لیکن سید علی چبوترہ پر واقع علی آباد سرائے کے سبب اس سڑک کی توسیع نہیں کی جا رہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ 200میٹر کی اس راہداری سے ٹریفک کے گذر کو بہتر بنانے کے سلسلہ میں مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد کئی تجاویز حکومت کو روانہ کی جاچکی ہیں لیکن اس کے باوجود اب تک بھی اس مسئلہ کا حل نہیں کیا جاسکا ہے۔ علی آباد سرائے کی راہداری کے سلسلہ میں سال 2012 کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے اسے یک رخی راستہ قرار دینے کی ایک تجویز پیش کی تھی جبکہ اس تجویز سے دستبرداری اختیار کرنے کے بعد اس راہداری میں موجود جائیدادوں کو حاصل کرتے ہوئے سڑک کی توسیع کا منصوبہ تیار کیا گیاتھا لیکن بعد ازاں تاریخی عمارتو ںکے تحفظ کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور جہدکاروں کی جانب سے علی آباد سرائے کے تحفظ کے لئے مہم چلائے جانے کے بعد اس بات کا تیقن دیا گیا تھا کہ 200 میٹر کے اس حصہ کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے اقدامات کے ساتھ قبضہ جات کو برخواست کرواتے ہوئے اسے بہتر بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن شاہ علی بنڈہ سے انجن باؤلی جانے والی اس سڑک پرتوسیعی و ترقیاتی کام جوں کے توں ادھورے چھوڑ دیئے گئے ہیں اور اب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبا دکے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ ان کے پاس ترقیاتی کامو ںکے لئے بجٹ نہیں ہے۔ شاہ علی بنڈہ سے انجن باؤلی جانے کے دوران شہریوں کو شام کے وقت شاہ غوث ہوٹل سے علی آباد تک ٹریفک جان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور راہگیروں کے علاوہ مقامی تاجرین کا کہناہے کہ مسلسل ٹریفک جام کے مسائل سے اس حصہ میں کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔م